اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

جنگ نہ امن: غیر یقینی حالات میں ایرانی کس طرح زندگی گزار رہے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تہران میں غیر یقینی معاشی حالات اور ایرانی شہریوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ایک تصویر
ایران کی سڑکیں پیدل چلنے والوں سے بھری ہوئی نظر آتی ہیں، شاپنگ سینٹرز میں سرگرمیاں نسبتاً تیز ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

ایران اور امریکہ کے مابین جاری نازک اور عارضی جنگ بندی نے تہران کے شہریوں کو ایک عجیب و غریب نفسیاتی اور معاشی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت نہ مکمل امن ہے اور نہ ہی باقاعدہ جنگ، جس کے باعث عام زندگی کا دارومدار مستقبل کے غیر یقینی سیاسی اور فوجی فیصلوں پر منحصر ہو چکا ہے۔

تہران میں زندگی اور عوامی خدشات

دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر گہما گہمی تو لوٹ آئی ہے، لیکن فضا میں تناؤ واضح ہے۔ 

تہران میں غیر یقینی معاشی حالات اور ایرانی شہریوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ایک تصویر
بمباری کے اثرات اب بھی کئی علاقوں میں دکھائی دے رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

یہاں کے کئی علاقوں میں بازاروں کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، تاہم شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ یہ سکون کسی بھی وقت ایک نئے تنازع کی نذر ہو سکتا ہے۔

شہریوں کے لیے یہ صورتحال ایک دہرے دباؤ کی مانند ہے۔  ایک جانب جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا خوف ہے تو دوسری جانب جاری سیاسی مذاکرات سے کسی دیرپا امن کی امید بھی وابستہ ہے۔ 

یہ کشمکش ایرانی معاشرے کے ہر طبقے کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

تہران میں غیر یقینی معاشی حالات اور ایرانی شہریوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ایک تصویر
عمارتوں کی تعمیر نو پر کام کرنے والی ہلکی ڈرلنگ مشینوں اور بھاری کرینوں کو دیکھا جا سکتا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

ایرانی معیشت اور تجارت

جنگ بندی کے بعد ایران میں کاروباری سرگرمیاں بحال تو ہوئی ہیں، لیکن قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے شہریوں کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔

اگرچہ ایران بنیادی اشیائے خورونوش میں خود کفیل ہے، تاہم گوشت، الیکٹرانک آلات اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر غیر متوقع اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت بنیادی اشیا کی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن درآمدات اور رسد میں رکاوٹوں کے باعث اشیائے صرف کے بحران کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔ 

بہت سے تاجر تجارتی غیر یقینی کی وجہ سے اپنے کاروبار کو عارضی طور پر سمیٹ رہے ہیں۔

تہران میں غیر یقینی معاشی حالات اور ایرانی شہریوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ایک تصویر
تہران کے کئی کھنڈر بنے گھروں پر تعمیر نو کا کام تاحال شروع نہیں ہو سکا (فوٹو: الجزیرہ)

تعمیرِ نو سُست اور شہری مشکلات

تہران کے ان علاقوں میں جہاں فضائی حملے ہوئے تھے، تعمیراتی کام انتہائی سُست روی کا شکار ہے۔

انجینئرز اور تعمیراتی ماہرین کے مطابق جن عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے انہیں فوری محفوظ بنایا جا رہا ہے، تاہم مکمل طور پر تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر کا کام جنگ کے مکمل خاتمے تک تعطل کا شکار ہے۔

اسی طرح بے گھر ہونے والے کئی خاندان حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ہنگامی رہائش یا ہوٹلوں میں منتقل ہوئے ہیں، لیکن انہیں جلد گھر خالی کرنے کے نوٹس مل چکے ہیں۔ 

اس کے علاوہ سرکاری امدادی قرضے ان کے لیے نئے گھر کے حصول میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، جو ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہے۔

تہران میں غیر یقینی معاشی حالات اور ایرانی شہریوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ایک تصویر
ایران میں گوشت اور پولٹری کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

بحری ناکابندی اور تجارتی چیلنجز

ایران پر عائد بحری پابندیاں ملک کی درآمدی و برآمدی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

حکومتی سطح پر پڑوسی ممالک کے ساتھ زمینی راستوں اور ’شیڈو فلیٹ‘ (خفیہ تجارتی بحری بیڑے) کے ذریعے متبادل تلاش کیے جا رہے ہیں، تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ ان متبادل راستوں سے نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ معاشی بندش خاص طور پر خلیج عرب کے قریب کاروبار کرنے والوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہے۔ 

سپلائی چین میں خلل اور ترسیل کے اوقات میں تبدیلی نے اشیا کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ سے دُور کر دیا ہے، جس سے کاروباری طبقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

تہران میں غیر یقینی معاشی حالات اور ایرانی شہریوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ایک تصویر
تہران میں گروسری اسٹور کی شیلف پر بنیادی سامان کی کثرت ہے (فوٹو: الجزیرہ)

موجودہ حالات میں ایران ایک ایسے دواہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی بحالی اور تعمیرِ نو کا انحصار مکمل طور پر سفارتی کامیابیوں اور سیکیورٹی کی ضمانتوں پر ہے۔

جب تک جنگ کے دوبارہ چھڑنے کا خدشہ موجود ہے، نجی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا عمل سست رہے گا، جس کا حتمی بوجھ عام ایرانی شہری ہی کو اٹھانا پڑے گا۔