اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

کلاؤڈ، کیمرے اور میزائل: ایرانی جنگ کا حیران کر دینے والا ورژن

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی سائبر جنگ اور کلاؤڈ میزائل ٹیکنالوجی تجزیہ
(فوٹو: الجزیرہ)

تل ابیب کے قریب رمات گان شہر میں جب سائرن بجتے ہیں اور لوگ پناہ گاہوں کی طرف بھاگتے ہیں، عین اسی لمحے ان کی جیبوں میں موجود اینڈرائیڈ فونز تھرتھراتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایک ٹیکسٹ میسج ’قریبی پناہ گاہوں کی نقشہ ایپ‘ کا لنک دیتا ہے اور جیسے ہی کوئی خوفزدہ شہری اس پر کلک کرتا ہے تو فون کا کنٹرول، کیمرے، لوکیشن اور نجی ڈیٹا تک ایرانی ہیکرز کے پاس چلا جاتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی ’چیک پوائنٹ ریسرچ‘ کے مطابق یہ ڈیجیٹل اور مادی حملوں کا وہ امتزاج ہے جو جنگی تاریخ میں پہلی بار اتنی باریک بینی کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔

سائبر ہتھیار: جنگ کا نیا انداز

مغربی میڈیا اکثر ایرانی سائبر حملوں کو اس کی روایتی فوجی کمزوری کا متبادل قرار دیتا ہے۔

فنانشل ٹائمز  اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے اداروں کا دعویٰ ہے کہ ایران روس یا چین جتنا تکنیکی ماہر نہیں، اس لیے وہ سستے سائبر ہتھیاروں سے غیر متناسب جنگ لڑتا ہے۔ 

لیکن اس جنگ کے شواہد بتاتے ہیں کہ سائبر ہتھیار ایران کے لیے متبادل  نہیں بلکہ فوجی کارروائیوں کی ایک اضافی تہہ (Layer) ہے، جسے دیکھ کر خود ماہرین حیران ہیں۔

دیکھا جائے تو ایران صرف ہیکنگ نہیں کر رہا، بلکہ وہ میزائل داغنے سے قبل کیمرے ہیک کرتا ہے، ڈرونز کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز تباہ کرتا ہے اور جنگ سے ہفتوں پہلے دشمن کے نیٹ ورکس میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے۔

ایرانی سائبر جنگ اور کلاؤڈ میزائل ٹیکنالوجی تجزیہ
(فوٹو: الجزیرہ)

کیمرے کی جاسوسی اور میزائل کی آنکھ

جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران جب ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے اسرائیل کے ’وائز مین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس‘ کو نشانہ بنایا تو وہ براہ راست میزائل حملہ نہیں تھا۔

اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کے ڈائریکٹر یوسی کارادی نے انکشاف کیا کہ میزائل گرنے سے چند لمحے پہلے ایران نے اس عمارت کے سامنے لگے ایک سیکیورٹی کیمرے کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

  • انہوں نے بتایا کہ یہ روایتی جاسوسی نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد ’بیٹل ڈیمیج اسیسمنٹ‘تھا یعنی یہ دیکھنا کہ میزائل ٹھیک نشانے پر لگا ہے یا نہیں۔
  • ایران نے پارکنگ لاٹس اور سڑکوں کے کیمرے ہیک کر کے اہم شخصیات کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی۔
  • 28 فروری کو جب امریکہ نے حملے شروع کیے تو اسرائیل سمیت لبنان، قبرص اور خلیجی ممالک میں چینی ساختہ کیمروں پر حملوں میں اچانک تیزی دیکھی گئی۔

کلاؤڈ (Cloud) کا بھی ایک ایڈریس ہوتا ہے

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ’کلاؤڈ‘ کو ایک عام اسٹوریج یا ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی جگہ چیز سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ کنکریٹ اور لوہے سے بنے ’ڈیٹا سینٹرز‘ میں چھپا ہوتا ہے جن کا ایک جغرافیائی ایڈریس بھی ہوتا ہے۔

یکم مارچ 2026 کو ایرانی ڈرونز نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کے مراکز کو نشانہ بنایا۔  اس حملے سے پورے خطے میں بینکنگ ایپس اور کارپوریٹ پلیٹ فارمز سمیت 60 سے زائد کلاؤڈ سروسز مفلوج ہو گئی تھیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ یہ مراکز دشمن کی انٹیلی جنس مدد کر رہے تھے۔ 

یہاں ایک دلچسپ بات ہے کہ اگر کیمرہ ہیکنگ میں سائبر ہتھیار میزائل کو سپورٹ کر رہا تھا تو یہاں میزائل (روایتی ہتھیار) نے سائبر جنگ کو سپورٹ کیا تاکہ دشمن کا ڈیجیٹل ڈھانچہ جسمانی طور پر تباہ کر دیا جائے۔

ایرانی سائبر جنگ اور کلاؤڈ میزائل ٹیکنالوجی تجزیہ
(فوٹو: الجزیرہ)

شور اور خاموشی: دو محاذوں پر جنگ

ایرانی سائبر جنگ دو سطحوں پر لڑی جا رہی ہے:

  1. شور والا محاذ (The Noisy Front): اس میں ’سائبر اسلامک ریزسٹنس‘ جیسے گروپ شامل ہیں جو سستے حملوں (DDoS) کے ذریعے ویب سائٹس بند کرتے ہیں اور نفسیاتی پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔  جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں میں ایسے 60 گروپس نے 16 ممالک کے 110 اداروں پر حملے کیے۔
  2. خاموش محاذ (The Silent Front): یہ وہ خطرناک گروپ ہیں جو براہِ راست ایرانی انٹیلی جنس سے منسلک ہیں۔ جیسے کہ ’سیڈ ورم‘ (Seedworm)، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکی بینکوں، ہوائی اڈوں اور دفاعی کمپنیوں کے نیٹ ورکس میں جگہ بنا چکے تھے۔ ان کا مقصد ڈیٹا چرانا نہیں بلکہ صحیح وقت پر پورے سسٹم کو مفلوج کرنا ہے۔

آئینہ، جو حقیقت دکھاتا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خود بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی ہیکرز نے تہران کے ٹریفک کیمروں کا کنٹرول حاصل کر کے ایرانی مرشدِ اعلیٰ کے حفاظتی دستوں کے معمولات کا ڈیٹا جمع کیا تھا۔ 

حملے کے وقت ایک مشہور ایرانی ’نماز ایپ‘ کو ہیک کر کے فوجیوں کو بغاوت پر اکسانے کے پیغامات بھیجے گئے اور مواصلاتی ٹاورز کو جام کر دیا گیا۔ 

مغربی میڈیا اسرائیل کے ان اقدامات کو ’انٹیلی جنس برتری‘ کہتا ہے لیکن جب ایران ایسا کرے تو اسے ’کمزوری کا متبادل‘ کہا جاتا ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کے عسکری اقدامات اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ 

28 فروری کو امریکہ نے نہ صرف ایٹمی تنصیبات بلکہ تہران میں موجود پاسدارانِ انقلاب کے سائبر ہیڈ کوارٹر کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا۔ 

اگر سائبر ہتھیار صرف ایک ’سستا متبادل‘ ہوتا، تو پینٹاگون اپنے قیمتی میزائل ایک ویب سائٹ ہیک کرنے والے دفتر پر ضائع نہ کرتا۔

ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ اب سائبر اور روایتی جنگ کے درمیان کوئی لکیر باقی نہیں رہی۔ 

ڈیجیٹل اسپیس اب محض ایک میدان نہیں بلکہ میدانِ جنگ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ ’کمزوروں کا ہتھیار‘ نہیں بلکہ ہر اس طاقت کا ہتھیار ہے جو مستقبل کی جنگیں لڑنا چاہتی ہے۔