ایران امریکا جنگ کے نتائج کے طور پر عالمی معیشتیں ایک انتہائی نازک مالیاتی دور سے گزر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
خطے میں کشیدگی اور جنگ کے معاشی اثرات نے حکومتوں کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جس سے توانائی بحران اور مہنگائی آنے سے عالمی سطح پر قرض لینے کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
قلیل مدتی بانڈز کا بڑھتا رحجان
تیل کی قیمتوں میں اضافے اور فنانسنگ کی مہنگی لاگت کے پیش نظر کئی حکومتوں نے قلیل مدتی بانڈز کے اجرا میں تیزی پیدا کر دی ہے۔
یہ حکمت عملی فوری اخراجات پورے کرنے کے لیے تو سود مند ہے، مگر اس سے مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی تشویش
عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کے مطابق بینک 15 ماہ کے عرصے میں جنگ سے متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے 80 سے 100 ارب ڈالر جمع کر سکتا ہے۔ یہ رقم کورونا وبا کے دوران فراہم کردہ امداد سے بھی زیادہ ہے، جو موجودہ بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ سے عالمی نمو کے تخمینے کم ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارے کے مطابق توانائی کی سپلائی میں خلل کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی تعاون کی طلب بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
قرضوں کا ریکارڈ اور مالیاتی دباؤ
2025 میں عالمی قرضوں کا حجم 29 ٹریلین ڈالر اضافے کے ساتھ 348 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔
اس دوران حکومتیں دفاعی اخراجات، توانائی کی قیمتوں اور بحرانی امداد کے لیے مسلسل قرض لے رہی ہیں، جبکہ قرضوں پر قابو پانے کے روایتی طریقے اب کم مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
جنگ نے مہنگائی کے خدشات کو بھی دوبارہ ہوا دی ہے، جس سے بانڈز کی پیداوار (Yields) میں تیزی آئی ہے۔
خاص طور پر یورپ میں جہاں توانائی درآمدات پر انحصار زیادہ ہے، قرض لینے کی لاگت برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ مثلاً برطانیہ میں 10 سالہ بانڈز کی پیداوار مالیاتی بحران کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔
حکومتی حکمت عملی میں تبدیلی
طویل مدتی فنانسنگ مہنگی ہونے کی وجہ سے حکومتیں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔
ماہر معاشیات حسام عائش کے مطابق قلیل مدتی بانڈز حکومتوں کو مالی انتظام میں لچک دیتے ہیں، جس سے جنگ سے متعلقہ ہنگامی اخراجات کو طویل مدتی بھاری سود ادا کیے بغیر پورا کیا جا سکتا ہے۔
یہ بانڈز غیر یقینی صورتحال میں ایک عارضی حل کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ یعنی حکومتیں سود کی شرح مستحکم ہونے تک طویل مدتی اخراجات سے بچنے کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔
بھارت جیسے ممالک بھی طویل مدتی بانڈز کا حصہ کم کر کے مختصر مدتی ٹریژری بلز پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔
قرضوں کے گردشی جال کا خطرہ
قلیل مدتی بانڈز کی طرف جھکاؤ دراصل مالیاتی مسائل کو مستقبل پر ڈالنے کے مترادف ہے۔
اس سے قرضوں کی واپسی کی مدت بار بار آتی ہے، جس سے حکومتیں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جی-7 ممالک میں قرض کا حجم جی ڈی پی کے برابر یا اس سے تجاوز کر چکا ہے۔
امریکہ کا قرض 120 فیصد، اٹلی کا 135 فیصد، فرانس کا 110 فیصد اور جاپان کا 250 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
حسام عائش کے مطابق یہ طرزِ عمل قرض کی لاگت ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے وقت پر تقسیم کر دیتا ہے، جس سے قرضوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔
معاشی ترقی اور سرمایہ کاری پر اثرات
جامعہ اُردن کے ماہر معاشیات رعد التل کے مطابق سرمایہ کار بھی اب قلیل مدتی پالیسی کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم یہ طریقہ درمیانی مدت میں معاشی خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔
سرمایہ کاری میں کمی اور نجی شعبے کے لیے رقوم کی عدم دستیابی معیشت کو ’اسٹگ فلیشن‘ (Stagflation) یعنی کم نمو اور مہنگائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال 9 ٹریلین ڈالر کے قرضوں کی ری فنانسنگ درکار ہے، جس سے ان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق مختصر مدت میں قلیل مدتی بانڈز حکومتوں کو سانس لینے کی مہلت فراہم کرتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ عالمی مالیاتی نظام کو مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
اگر عالمی سطح پر سود کی شرح اور سیاسی تناؤ برقرار رہا تو دنیا ایک نئے اور گہرے مالیاتی بحران کی زد میں آ سکتی ہے۔