معاصر تاریخ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم کے درمیان تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جہاں لفظی گولہ باری نے سفارتی آداب کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی ہیں۔
مزید پڑھیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف سخت پالیسیوں اور ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کے جواب میں ان پر شدید ترین حملہ کیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ کا پاپائے روم سے تصادم ہوا ہو۔ 2016 میں انہوں نے آنجہانی پوپ فرانسس کے اس بیان کو شرمناک قرار دیا تھا کہ ’دیواریں بنانے والا مسیحی نہیں ہوتا‘۔
لیکن موجودہ پوپ لیو چہار دہم کے ساتھ جاری یہ جنگ تاریخ کی بدترین کشیدگی میں بدل چکی ہے۔
تازہ تصادم: دعا اور بارود آمنے سامنے
پوپ لیو چہار دہم نے اپنے پیشرو پوپ فرانسس کے انسانی ہمدردی کے راستے کو سختی سے اپنایا ہوا ہے۔
ستمبر 2025 میں انہوں نے ریپبلکنز کے Pro-life کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ تارکینِ وطن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والے زندگی کے محافظ نہیں ہو سکتے۔
- ایران اور عالمی بحران: پوپ نے ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کرتے ہوئے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
- 10 اپریل کو انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ خدا کسی جنگ یا بم گرانے والوں کی حمایت نہیں کرتا۔
- ٹرمپ کا بھرپور جواب: ان بیانات نے امریکی صدر کو طیش دلا دیا اور ٹرمپ نے پوپ کو خارجہ پالیسی میں ناکام اور جرائم کے خلاف کمزور قرار دیا۔
- ٹرمپ نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ پوپ کے بھائی لوس بریوسٹ جو ’ماگا‘ تحریک کے حامی ہیں، اگر نہ ہوتے تو لیو کبھی پوپ نہ بن پاتے۔ ٹرمپ نے ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر بھی جاری کی جس میں انہیں مسیح کی طرح شفا دینے والے ایک ‘مقدس’ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
امریکی صدور اور ویٹیکن کے تعلقات : ایک صدی کا سفر
وائٹ ہاؤس اور ویٹیکن کے تعلقات کی تاریخ 1919 سے شروع ہوتی ہے اور اس میں کئی اہم سنگ میل آئے ہیں:
- وڈرو ولسن (1919): پہلی جنگ عظیم کے بعد پوپ بینیڈکٹ پانزدہم سے ملاقات کرنے والے پہلے امریکی صدر تھے۔
- جان ایف کینڈی (1963): پہلے کیتھولک صدر تھے۔ ان کی پوپ پال ششم سے ملاقات کے 5 ماہ بعد جب ان کا قتل ہوا، تو پوپ زار و قطار روئے تھے۔
- رونالڈ ریگن (1982): ریگن اور پوپ جان پال دوم کا دور سنہرا دور کہلاتا ہے۔ دونوں قاتلانہ حملوں میں بچنے کے بعد ایک دوسرے کے قریب آئے اور 1984 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔
- جنگِ عراق کے اختلافات: جارج ڈبلیو بش نے پوپ جان پال دوم کو تمغہ آزادی تو دیا، لیکن پوپ نے انہیں عراق پر حملے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی اور اسے ایک ایسی مہم جوئی قرار دیا جس سے واپسی ممکن نہیں۔
- اوباما اور بائیڈن: اوباما نے 3 بار ملاقات کی۔ ان کے اسقاطِ حمل (Abortion) پر اختلافات رہے۔ جو بائیڈن نے پوپ فرانسس سے کووڈ (Covid) اور موسمیاتی تبدیلیوں پر مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
امریکی کیتھولک: 70 ملین ووٹرز کا مخمصہ
امریکہ میں تقریباً 70 ملین کیتھولک آباد ہیں جو کل آبادی کا 20 فیصد بنتے ہیں۔ کیتھولک آبادی کے لحاظ سے امریکہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔
- سیاسی تقسیم:پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 53 فیصد کیتھولک ریپبلکنز کو ووٹ دیتے ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں 50 فیصد سے زائد کیتھولک نے ٹرمپ کو ووٹ دیا، لیکن ان کی مذہبی قیادت کی اکثریت جنگ کی مخالف ہے۔
- نسلی توازن: کیتھولک ووٹرز میں 54 فیصد سفید فام (جن کا جھکاؤ ریپبلکنز کی طرف ہے) اور 36 فیصد ہسپانوی نژاد (جن کا 56 فیصد جھکاؤ ڈیموکریٹس کی طرف ہے) شامل ہیں۔
ایران جنگ: اسلام آباد مذاکرات اور پوپ کی دعا
جس دن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا، پوپ نے اپنے قداس (Mass) میں خود پرستی، دولت کی پوجا اور طاقت کی نمائش ختم کرنے کی دعا کی۔
انہوں نے الجزائر کے دورے کے دوران بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور نو آبادیاتی طرزِ عمل کی مذمت کی۔
اسی طرح اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی ٹرمپ کے حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پوپ کے امن کے پیغام کی حمایت کی ہے۔
ناقابلِ تلافی دراڑ؟
اگرچہ وائٹ ہاؤس اور ویٹیکن کے درمیان ماضی میں بھی کئی معاملات پر اختلاف رہا ہے، لیکن حالیہ تصادم نے دونوں طاقتوں کے درمیان خلیج کو اس قدر وسیع کر دیا ہے کہ اب اسے پُر کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کی قوم پرستی اور پوپ کی عالمگیر انسانیت پسندی کے درمیان یہ جنگ اب محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ 70 ملین امریکی کیتھولک کے ضمیر اور وفاداری کا امتحان بن چکی ہے۔