ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ متنازع ٹوئٹ پر باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہر قدم اعلیٰ حکام کی مکمل مشاورت اور ہم آہنگی سے لیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے ان سوالات کا جواب دیا کہ کیا وزیر خارجہ کا بیان قومی سلامتی کونسل اور عسکری حکام کے علم میں تھا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزارت خارجہ کسی بھی اہم معاملے پر خود مختار فیصلہ نہیں کرتی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اتنے حساس اور اہم معاملے پر حتمی فیصلہ
ملک کے تمام متعلقہ اداروں اور مقتدر حلقوں کی رائے کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ وزارت خارجہ تمام مراحل میں اپنی پیشہ ورانہ تجاویز لازمی پیش کرتی ہے۔
عباس عراقچی کی ٹوئٹ کے پس منظر میں انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مفاہمت کا حصہ تھا جو لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکہ کی جانب سے وعدوں کی عدم تکمیل کے باعث تاحال مکمل طور پر نافذ العمل نہیں ہو سکا تھا۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
ایرانی ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ کی ٹوئٹ کا مقصد صرف یہ باور کرانا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے، بشرطیکہ امریکی فریق بھی لبنان میں جنگ بندی سمیت تمام طے شدہ شرائط پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل محمد باقر ذوالقدر کی سربراہی میں کام کرنے والی ایرانی قومی سلامتی کونسل نے وضاحت کی تھی کہ آبنائے ہرمز صرف تجارتی جہازوں کے لیے عارضی طور پر کھلی ہے اور اس دوران دشمن ممالک کے جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی رہے گی۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے مشیر نے انکشاف کیا ہے کہ عسکری قیادت عباس عراقچی کے اعلان پر ناراض تھی۔
اُن کا موقف تھا کہ اس حساس فیصلے سے قبل فوج اور پاسداران انقلاب کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بعد ازاں واضح کیا کہ جب تک امریکہ ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر عائد پابندیاں اور محاصرہ ختم نہیں کرتا، اس وقت تک اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کا کوئی امکان یا ارادہ موجود نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی کو اندرونی طور پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے، جس نے صدر مسعود پزشکیان کے اس سابقہ واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے، جب انہوں نے خلیجی ممالک پر حملوں پر معذرت کی تھی لیکن بعد میں دباؤ پر اپنا بیان واپس لیا تھا۔
تہران کے ان متضاد بیانات نے عالمی سطح پر ایرانی اقتدار کے ایوانوں میں فیصلہ سازی کے عمل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تزویراتی معاملات پر سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔