آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے حادثے نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور کہا کہ دونوں امریکی پائلٹ محفوظ ہیں، تاہم بعد میں سامنے آنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوجی قیادت اس معاملے کو کہیں زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے واقعے کی تفصیلات اور خطرات سے آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک ایرانی ’شاہد‘ ڈرون نے عمان کے ساحل کے قریب گشت کرنے والی امریکی اپاچی کو نشانہ بنایا۔
اس واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایران نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے ساحلوں کے قریب سرگرم غیر ملکی فوجی اثاثے انسانی غلطی، حادثات یا فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کے بعد دونوں امریکی اہلکاروں نے بروقت ہیلی کاپٹر چھوڑ دیا تھا اور بعد میں امریکی فوج نے ایک بغیر پائلٹ کشتی کے ذریعے انہیں بحفاظت ریسکیو کر لیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کھلے سمندر میں اپنی نوعیت کا پہلا کامیاب ریسکیو آپریشن تھا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کم بلندی پر پرواز کرنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کی زد میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسے واقعات کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ متعدد بار ایران کے ساتھ نئی جنگ سے گریز کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ پہلے یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایرانی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تو واشنگٹن سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔