اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات: بل گیٹس سے تفتیش ہوگی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی کانگریس میں جیفری ایپسٹین کیس کے سلسلے میں پیش ہونے والے بل گیٹس
بل گیٹس کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور وہ مکمل تعاون کریں گے، ترجمان (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی ارب پتی اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق کانگریس میں بل گیٹس کی پیشی بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔

اس سلسلے میں بل گیٹس واشنگٹن میں کیپٹل ہل کے مقام پر ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے سامنے بند کمرہ اجلاس میں پیش ہوں گے۔

اس کارروائی کا مقصد جیفری ایپسٹین سے وابستہ افراد کے نیٹ ورک اور ان کے باہمی تعلقات کی تمام تفصیلات کو بے نقاب کرنا ہے۔

بل گیٹس کے ترجمان نے گزشتہ اپریل میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بل گیٹس کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور وہ مکمل تعاون کریں گے۔

امریکی کانگریس میں جیفری ایپسٹین کیس کے سلسلے میں پیش ہونے والے بل گیٹس
بل گیٹس کی یہ پیشی بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کی جاری تحقیقات کا حصہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

یاد رہے کہ فروری میں بل گیٹس نے ایپسٹین سے تعلقات کو ایک بڑی غلطی قرار دیا تھا۔

انہوں نے اپنی فاؤنڈیشن کے ارکان کے سامنے 2 روسی خواتین کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات کا اعتراف کیا تھا مگر کسی بھی غیر قانونی کام کی تردید کی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بل گیٹس نے ایک آڈیو ریکارڈنگ میں اعتراف کیا کہ ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ایک سنگین غلطی تھی۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات 2011 میں شروع ہوئے تھے، جو ایپسٹین کے انسانی اسمگلنگ کیس میں مجرم قرار پانے کے 3 سال بعد تھا۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں ایپسٹین کی ایک غیر ارسال شدہ ای میل کا مسودہ بھی شامل ہے۔ 

امریکی کانگریس میں جیفری ایپسٹین کیس کے سلسلے میں پیش ہونے والے بل گیٹس
بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس ای میل میں بل گیٹس کے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات اور ان کے لیے ادویات کے حصول میں مدد فراہم کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

اس تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے سابق صدر بل کلنٹن اور موجودہ وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک سمیت کئی اہم شخصیات پہلے ہی بیانات دے چکی ہیں۔ 

اہم بات یہ ہے کہ کیس کی دستاویزات کا عام ہونا امریکی سیاسی منظر نامے پر گہرا اثر انداز ہو رہا ہے اور امریکی عوام کی جانب سے ایپسٹین کیس کی تمام دستاویزات کو مکمل طور پر عام کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت انصاف کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق جن دستاویزات کی اشاعت ضروری تھی، وہ تمام پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔