دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے ’وی-2‘ (V-2) بیلسٹک میزائل تیار کیے، جن کی رینج 320 کلومیٹر تھی۔
مزید پڑھیں
جنگ کے اختتام پر امریکہ اور سوویت یونین نے ان میزائلوں کو حاصل کرکے جرمن سائنسدانوں ہی کی مدد سے اپنی طویل فاصلاتی میزائل ٹیکنالوجی کو مزید جدید اور طاقتور بنایا۔
سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلا اور چاند تک پہنچنے کی دوڑ شروع ہوئی۔
1957 میں سوویت یونین کے ’اسپٹنک 2‘سیٹلائٹ کے خلا میں بھیجے
جانے پر واشنگٹن میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ کہیں سوویت یونین خلا میں جوہری ہتھیار نہ نصب کر دے۔
سیاسی کشیدگی اور خلا کے فوجی استعمال کا خدشہ
60ء کی دہائی میں امریکہ اور سوویت یونین کے مابین کشیدگی عروج پر تھی۔
دیوارِ برلن کی تعمیر، ویتنام جنگ میں امریکی مداخلت اور 1962ء کے کیوبن میزائل بحران نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ان حالات میں خلا کے عسکری استعمال کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔
دونوں بڑی طاقتیں خلا میں جاسوسی سیٹلائٹس، خلائی فوجی اڈے قائم کرنے اور جوہری ہتھیار نصب کرنے جیسی عسکری تحقیق پر توجہ دے رہی تھیں۔
اس صورتحال نے عالمی سطح پر ایک بڑی تشویش پیدا کر دی تھی کہ خلا بھی زمین کی طرح جنگی میدان نہ بن جائے۔
اقوام متحدہ کی مداخلت اور خلائی معاہدے کی تشکیل
خلا کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خدشات پر 1958ء میں اقوام متحدہ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اس کمیٹی کا مقصد مشرقی اور مغربی بلاکس کے درمیان مذاکرات کروانا تھا تاکہ خلا کو انسانیت کے لیے پرامن اور اجتماعی ملکیت کے طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کو یہ خوف تھا کہ امریکہ یا سوویت یونین چاند یا دیگر سیاروں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ نہ کر دیں۔
لہذا ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خلا کو کسی بھی ریاست کی اجارہ داری سے پاک رکھنا اور اسے انسانیت کی مشترکہ میراث قرار دینا تھا۔
شرائط اور بین الاقوامی قانونی حیثیت
جنوری 1967ء میں واشنگٹن، ماسکو اور لندن میں خلائی معاہدے ’ Outer Space Treaty پر دستخط کیے گئے۔
10 اکتوبر 1967ء کو یہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا اور 2025ء کے اختتام تک دنیا کے 118 ممالک اس اہم بین الاقوامی معاہدے کے دستخط کنندہ بن چکے ہیں۔
معاہدے کی اہم شقوں کے مطابق خلا کو صرف پُرامن اور سائنسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی ملک کو خلا میں جوہری یا دیگر ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ تمام ممالک کو خلائی تحقیق کے لیے یکساں حقوق حاصل ہیں، مگر زمین پر کسی بھی خلائی حصے کی ملکیت کا دعویٰ ممنوع ہے۔
خلا: انسانیت کی بقا اور پرامن مستقبل کی ضامن
یہ معاہدہ خلائی مسافروں کو ’انسانیت کے سفیر‘ قرار دیتا ہے اور کسی بھی حادثے کی صورت میں تمام ممالک کو ان کی مدد کا پابند بناتا ہے۔
یہ معاہدہ تمام ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی خلائی سرگرمیوں میں شفافیت لائیں اور اپنے نجی اداروں کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نگرانی رکھیں۔
مجموعی طور پر یہ معاہدہ سرد جنگ کی ہولناکیوں کے سائے میں طے پایا، جس نے خلا کو جنگی ہتھیاروں سے پاک رکھ کر انسانیت کو ایک بڑے تباہ کن ممکنہ تصادم سے بچایا۔
آج بھی یہ معاہدہ عالمی خلائی نظم و نسق اور امن کے قیام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔