ٹرمپ نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، البتہ اس سے قبل انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ایرانی بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کے احکامات جاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو مزید چیلنج کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
کیوبا میں واقع امریکی اڈے گوانتانامو کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی کارروائیاں امریکی عوام کے تحفظ کے لیے دفاعی نوعیت کی ہیں اور صدر ٹرمپ ایک ایسے جامع معاہدے کے خواہاں ہیں جو ایران کو ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے۔
ادھر ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ سخت بیانات اور دھمکیوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بدھ کے روز بھی جاری رہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھے گا۔
یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، تاہم اطلاعات کے مطابق انہیں راستے میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔
اس دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی حالیہ دنوں میں کشیدگی دیکھی گئی، تاہم بعد ازاں دونوں فریقوں نے امریکی دباؤ کے بعد حملے روکنے کا اعلان کیا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان 28 فروری سے جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، مگر حالیہ فوجی کشیدگی نے ان مذاکرات کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔