اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

ٹرمپ کی دھمکی: کل کی طرح آج بھی ایران کو نشانہ بنائیں گے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران حملے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج بھی اسی شدت سے حملے کرے گا جیسے گزشتہ روز کیے گئے تھے۔
انہوں نے ایران پر مذاکرات میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک مؤثر اور قابلِ عمل معاہدہ چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے بھی ایران کو مزید اشتعال انگیزی سے باز رہنے کی تنبیہ کی، جبکہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے رویہ نہ بدلا تو اس پر مزید طاقتور حملے کیے جائیں گے۔ 

انہوں نے ایران پر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں ’وقت ضائع کرنے اور سنجیدگی نہ دکھانے‘ کا الزام بھی عائد کیا۔

العربیہ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ روز جس طرح کارروائی کی، اسی طرح آج بھی بھرپور حملے کیے جا سکتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

ان کے بقول واشنگٹن ایک حقیقی، مؤثر اور قابلِ عمل معاہدہ چاہتا ہے اور ایران پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے، اب اسے صرف اس معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ 

ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے امکان سے متعلق سوال پر 

ٹرمپ نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، البتہ اس سے قبل انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ایرانی بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کے احکامات جاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ChatGPT Image 7 يونيو 2026، 11 04 56 م

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو مزید چیلنج کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ 

کیوبا میں واقع امریکی اڈے گوانتانامو کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی کارروائیاں امریکی عوام کے تحفظ کے لیے دفاعی نوعیت کی ہیں اور صدر ٹرمپ ایک ایسے جامع معاہدے کے خواہاں ہیں جو ایران کو ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے۔

ادھر ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ سخت بیانات اور دھمکیوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بدھ کے روز بھی جاری رہے۔ 

ان کے مطابق واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھے گا۔

یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، تاہم اطلاعات کے مطابق انہیں راستے میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔ 

اس دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی حالیہ دنوں میں کشیدگی دیکھی گئی، تاہم بعد ازاں دونوں فریقوں نے امریکی دباؤ کے بعد حملے روکنے کا اعلان کیا۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان 28 فروری سے جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، مگر حالیہ فوجی کشیدگی نے ان مذاکرات کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔