اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

امریکی میڈیا: ٹرمپ کے ایران معاہدوں کے درجنوں دعووں کا پول کھل گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی اختیارات اور ہنگامی قوانین کی علامتی عکاسی
ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ میں صدر ہوں اور کچھ بھی کرنے کا حق رکھتا ہوں (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی نیٹ ورک سی این این نے ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں بار ایران کے ساتھ معاہدے کی قربت کے دعوے کیے ہیں، تاہم عملی طور پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اب تک 37 مرتبہ براہ راست یہ دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ طے پانے والا ہے یا ایران اس کے لیے بے چین ہے۔

امریکی صدر کے یہ بیانات سوشل میڈیا، انٹرویوز اور فون کالز کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔

7 اپریل کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ مذاکرات انتہائی 

قریبی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حتمی دستخط کے لیے صرف 2 ہفتے درکار ہیں۔

انہوں نے اس دیرینہ مسئلے کے حل کو ایک اعزاز قرار دیا تھا، تاہم ان دعووں کے باوجود 2 ماہ گزرنے پر بھی کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ مالیاتی منڈیوں کو مستحکم رکھنے یا محض اپنی بات سچ ثابت کرنے کے لیے مسلسل اس طرح کے بیانات جاری کر رہے ہیں۔

iran us 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یاد رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ کشیدگی 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد بڑھی تھی، جس کے نتیجے میں ایران نے اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس سے عالمی بحران پیدا ہوا۔

امریکی صدر نے مختلف مواقع پر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکہ نے ایرانی فوج اور بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول اب ایران کے پاس دفاع یا جوابی کارروائی کی کوئی فوجی صلاحیت باقی نہیں رہی۔

اپریل میں جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے براہ راست مذاکرات رُک چکے ہیں اور اب ثالثوں کے ذریعے صرف  پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج عرب میں مسلسل جھڑپوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث موجودہ نازک جنگ بندی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کسی ٹھوس نتیجے پر نہ پہنچے تو خطے میں امن کی یہ عارضی کوششیں کسی بھی وقت ناکام ہو سکتی ہیں۔