ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی ایپل نے اپنی سالانہ عالمی ڈویلپرز کانفرنس (WWDC 2026) میں اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 27 کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ نیا سسٹم آئی فون کے تجربے کو ایک نئے دور میں داخل کرنے جا رہا ہے، جہاں ظاہری یا بنیادی ڈیزائن کی بڑی تبدیلیوں کے بجائے پورا فوکس آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے مربوط استعمال اور روزمرہ کی پرفارمنس کو غیر معمولی بنانے پر رکھا گیا ہے۔
ایک طرف جہاں ایپل کی جانب سے ڈویلپرز کے لیے پہلا بیٹا (Beta) ورژن فوری طور پر دستیاب کر دیا گیا ہے، وہیں عام صارفین کے لیے
بھی پبلک بیٹا ورژن جولائی 2026 میں جاری کیا جائے گا۔
اس کے بعد آئی او ایس 27 کا فائنل اور مستحکم ورژن رواں سال کے موسمِ خزاں (ستمبر یا اکتوبر) میں آئی فون کی نئی جنریشن (آئی فون 18 سیریز) کی لانچنگ کے ساتھ تمام صارفین کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
پرفارمنس میں جدت
پچھلے آپریٹنگ سسٹم (iOS 26) کے برعکس، جس میں بہت سے نئے ویژول فیچرز متعارف کروائے گئے تھے، آئی او ایس 27 کا بنیادی مقصد سسٹم کی رفتار، رسپانس اور استحکام (Stability) کو بڑھانا ہے۔
’سلیش گیئر‘ (slashgear) کی رپورٹ اور العربیہ بزنس کے تجزیے کے مطابق ایپل نے اس بار سسٹم کے بنیادی ڈھانچے کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ ایپلی کیشنز کلک کرتے ہی پلک جھپکتے میں کھلیں گی۔
اس کے علاوہ فائلز شیئر کرنے والے مقبول فیچر ایئر ڈراپ میں بھی بڑی اپ گریڈیشن کی گئی ہے، جس کی بدولت اب فائلوں کی منتقلی کی رفتار پچھلے ورژنز کے مقابلے میں 80 فیصد تک تیز ہو جائے گی۔
ویژول ڈیزائن کے محاذ پر ایپل نے اپنے ’لیکوڈ گلاس‘ (Liquid Glass) ڈیزائن کو مزید بہتر کیا ہے۔
اب صارفین ایک مخصوص سلائیڈر پٹی (بار) کے ذریعے ہوم اسکرین کے مواد کی شفافیت (Transparency) کو اپنی مرضی سے ایڈجسٹ کر سکیں گے۔
اسی طرح شیشے کے مانند روشنی کے انعکاس کے اثرات (Refraction Effects) اور آئیکنز کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور حقیقت پسندانہ بنایا گیا ہے۔
Siri AI is finally rolling out with iOS 27, but there’s a catch… a waitlist. 👀
— Apple Club (@ApplesClubs) June 10, 2026
Did you already get access, or are you still stuck on the waitlist? pic.twitter.com/a6ftLYB9F4
سِری اے آئی کے جادو
اس پوری اپ ڈیٹ کا سب سے بڑا اور مرکزی فیچر ایپل کا نیا ورچوئل اسسٹنٹ ہے، جسے اب باقاعدہ طور پر ’سِری اے آئی‘ (Siri AI) کا نام دیا گیا ہے۔
ایپل کے مطابق یہ نیا اسسٹنٹ انسانی زبان کو عام بول چال کے انداز میں سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے اور اب قاری یا صارف کے ساتھ طویل گفتگو کو انتہائی روانی سے آگے بڑھا سکتا ہے۔
سِری اے آئی اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ احکامات پر عمل درآمد کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔
اس میں ’سیاق و سباق کو سمجھنے کی صلاحیت‘ (Contextual Awareness) کو اس سطح پر پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ صارف سے کی گئی پچھلی گفتگو کو یاد رکھتا ہے، اسکرین پر موجود مواد یا تصاویر کو خودکار طور پر سمجھتا ہے اور صارف جو کچھ کر رہا ہوتا ہے اس کے عین مطابق درست جوابات اور تجاویز فراہم کرتا ہے۔
اس بڑی پیش رفت کے ذریعے ایپل مارکیٹ میں موجود دیگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس سروسز کے مقابلے میں اپنے ’ایپل انٹیلیجنس‘ کے اثر و رسوخ کو دوبارہ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
فوٹو ایڈیٹنگ اور دیگر ایپس میں اے آئی کا استعمال
مصنوعی ذہانت کا یہ جادو صرف سِری تک محدود نہیں ہے۔
آئی او ایس 27 میں تصاویر کو ایڈٹ کرنے کے لیے جدید ترین ٹولز شامل کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تصویر میں موجود کسی بھی غیر ضروری چیز یا شخص کو انتہائی صفائی سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مختلف ایپس کے اندر موجود ڈیٹا، فائلز اور فوٹوز کی کیٹیگریز بنانے اور انہیں منظم کرنے کے لیے بھی پسِ پردہ اے آئی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔
بچوں کے لیے نئے سیکیورٹی ٹولز
اس بار ایپل نے خاندانی تحفظ اور سائبر سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دی ہے۔
آئی او ایس 27 میں والدین کے لیے ’پیرنٹل کنٹرولز‘ کے ایسے جدید ٹولز متعارف کروائے گئے ہیں جن کی مدد سے وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
ان میں سب سے اہم فیچر میسجز ایپ کے اندر حساس یا غیر اخلاقی تصاویر کا خودکار طور پر دھندلا ہو جانا ہے، تاکہ بچوں کو انٹرنیٹ براؤزنگ اور چیٹنگ کے دوران کسی بھی ناپسندیدہ مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ای میل، میپس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی سہولت
ان سب کے علاوہ ایپل نے اپنی روایتی ایپس میں بھی کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں:
- ایپل میل: ای میل ایپ میں ایک نیا فلٹرنگ اور چھانٹی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کی مدد سے صارف برسوں پرانی ای میلز بھی سیکنڈوں میں تلاش کر سکے گا۔
- آئی کلاؤڈ شیئرڈ البمز: اینڈرائیڈ اور ونڈوز صارفین کے لیے ایک طویل عرصے سے منتظر فیچر پیش کر دیا گیا ہے۔ اب وہ آئی فون صارفین کے ساتھ ’آئی کلاؤڈ شیئرڈ البمز‘ کے ذریعے براہ راست تصاویر شیئر اور ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔
- ایپل میپس: نقشو ں کی ایپ میں زمین کے فضائی مناظر کو مزید تفصیلی شکل دی گئی ہے، جبکہ شہروں کو تھری ڈی انداز میں دیکھنے والے فیچر ’فلائی اوور‘ کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
- آڈیو ایکولائزر: ایپل کی وائرلیس ہیڈ فونز یا ایئر پوڈز استعمال کرنے والوں کو اب اپنی پسند کے مطابق ساؤنڈ فریکوئنسی ایڈجسٹ کرنے کے لیے کسٹم ایکولائزر کی سہولت ملے گی۔
پرانے آئی فونز کے لیے سپورٹ
ایپل کے صارفین کے لیے سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ تمام آئی فونز جو آئی او ایس 26 پر چل رہے تھے، آئی او ایس 27 اپ ڈیٹ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
اس فہرست میں پرانے ماڈلز جیسے ’آئی فون 11‘ اور ’آئی فون ایس ای – سیکنڈ جنریشن‘ بھی شامل ہیں۔
ایپل کا دعویٰ ہے کہ پروسیسر کے کاموں کو شیڈول کرنے والے ایک نئے اسمارٹ سسٹم کی بدولت یہ پرانی ڈیوائسز بھی نئے سافٹ ویئر پر پہلے سے زیادہ تیز رفتار اور بہتر رسپانس دیں گی۔
کیا یہ اپ ڈیٹ فوراً انسٹال کرنی چاہیے؟
ایپل کا آئی او ایس 27 اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اب اسمارٹ فون انڈسٹری ظاہری بناوٹ کی دوڑ سے نکل کر سافٹ ویئر کی اندرونی طاقت اور مصنوعی ذہانت کے پائیدار استعمال کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پرزوں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود ایپل نے ہارڈ ویئر کے بجائے سافٹ ویئر آپٹیمائزیشن کے ذریعے پرانے اور نئے آئی فونز کی کارکردگی بڑھانے کا جو فارمولا اپنایا ہے، وہ معاشی اور تکنیکی دونوں لحاظ سے ایک متوازن قدم ہے۔
تاہم، جہاں تک جولائی میں آنے والے بیٹا ورژن کا تعلق ہے، تو ایک تکنیکی مشورے کے طور پر صارفین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان ابتدائی آزمائشی ورژنز کو اپنے روزمرہ کے زیرِ استعمال اصلی آئی فون پر انسٹال کرنے سے گریز کریں۔
بیٹا ورژنز میں کئی بگز اور بیٹری ٹائمنگ کے مسائل ہو سکتے ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ان کا تجربہ کسی کم استعمال ہونے والے یا سیکنڈری فون پر کیا جائے، جبکہ عام صارفین موسمِ خزاں میں آنے والے حتمی اور مستحکم ورژن ہی کا انتظار کریں۔