سعودی عرب کے شمال مغربی ریجن تبوک کی ساحلی شہر املج میں رواں سال آموں کے سیزن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے تبوک ریجن دفتر کے مطابق مزارعین نے آم کی فصل کی کٹائی شروع کر دی ہے، جبکہ اس سال پیداوار اور معیار دونوں کے حوالے سے غیر معمولی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تبوک ریجن میں وزارت کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر امجد بن عبداللہ ثلاب نے بتایا کہ املج سعودی عرب میں آم کی پیداوار کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
سازگار موسمی حالات، زرخیز زمین اور جدید زرعی طریقوں کی بدولت یہاں آم کی کاشت مسلسل فروغ پا رہی ہے۔
املج میں اس وقت 90 ہزار سے زائد آم کے درخت موجود ہیں، جن سے سالانہ تقریباً 4,500 ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ املج میں مختلف اقسام کے اعلیٰ معیار کے آم پیدا کیے جاتے ہیں، جن کی مقامی منڈیوں میں بڑی طلب ہوتی ہے۔
آم کی پیداوار نہ صرف مقامی کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ خطے کی زرعی معیشت کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔
انجینئر ثلاب کے مطابق رواں سال درختوں کی بہتر نشوونما، مناسب آبپاشی اور جدید زرعی تکنیکوں کے استعمال کے باعث پیداوار میں بہتری کی امید ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پھل کے حجم، ذائقے اور معیار میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے، جس سے مقامی اور علاقائی منڈیوں میں املج کے آموں کی مسابقتی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت کسانوں کی معاونت کے لیے مختلف رہنمائی پروگرام، فنی مشاورت اور تربیتی خدمات فراہم کر رہی ہے۔
جدید زرعی طریقوں، پانی کے مؤثر استعمال اور پائیدار کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پیداوار میں اضافہ اور زرعی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آم کی کاشت املج کے زرعی شعبے کا ایک اہم ستون بن چکی ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی پیداوار سعودی وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ، زرعی تنوع اور مقامی پیداوار میں اضافے کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
توقع ہے کہ رواں سیزن میں وافر پیداوار مقامی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ کسانوں کے معاشی فوائد میں بھی نمایاں اضافہ کرے گی۔