اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

فیفا کی اسکرینیں کمائی کا ذریعہ: نام دکھانے کی قیمت مقرر، شائقین نالاں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فیفا ورلڈ کپ اسٹیڈیم اسکرین سروس اور شائقین کی ناراضگی کا تنازع
ان متنازع اقدامات میں سب سے نمایاں ’پریمیئم گریٹنگ‘نامی ایک ڈیجیٹل سروس ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

کل جمعرات سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے جوش و خروش کے درمیان، فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی ’فیفا‘کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ تنقید مہنگی تجارتی خدمات اور حالیہ متنازع فیصلوں پر کی جا رہی ہے، جنہیں فٹ بال شائقین کی عالمی تنظیموں نے روایتی عوامی جذبے کے منافی اور ٹورنامنٹ کو محض ایک سرمایہ کاری پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ 

ان متنازع اقدامات میں سب سے نمایاں ’پریمیئم گریٹنگ‘نامی ایک ڈیجیٹل سروس ہے، جس کے تحت شائقین اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر 

اپنا نام دیکھنے کے لیے 79 امریکی ڈالر ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔

رقم دیں اور اسٹیڈیم میں اپنا نام دیکھیں

فیفا کی جانب سے متعارف کروائی گئی اس نئی ڈیجیٹل سروس کا دائرہ کار ٹورنامنٹ کے گروپ اسٹیج کے تمام 72 میچوں تک پھیلا ہوا ہے۔

اس سروس کے تحت میچ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین ٹیکسز کے بغیر 79 امریکی ڈالر فی مرتبہ کی ادائیگی کر کے اسٹیڈیم کے اسکور بورڈ اور بڑی اسکرینوں پر اپنا نام ڈسپلے کروا سکتے ہیں۔ 

اس کے لیے صارفین کو فیفا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جا کر اس ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا جس کی وہ حمایت کر رہے ہیں اور یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کتنی بار اپنا نام اسکرین پر چمکانا چاہتے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ اسٹیڈیم اسکرین سروس اور شائقین کی ناراضگی کا تنازع
نئی ڈیجیٹل سروس کا دائرہ کار ٹورنامنٹ کے گروپ اسٹیج کے تمام 72 میچوں تک پھیلا ہوا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

رجسٹریشن اور سخت فلٹرنگ

اس سروس کو حاصل کرنے کا طریقہ کار انتہائی منظم رکھا گیا ہے۔ شائقین کو اپنا نام درج کرنے کے بعد فیفا کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی فیفا نے ناموں کی سخت مانیٹرنگ کا نظام بھی وضع کیا ہے جس کے تحت کسی بھی غیر مناسب، نازیبا یا فحش لفظ کو خودکار طور پر فلٹر کر کے خارج کر دیا جائے گا۔ 

اگرچہ ابتدائی تشہیر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نام ’میچ کے دوران اور موزوں ترین لمحے پر‘دکھایا جائے گا، تاہم اس کے تفصیلی قواعد و ضوابط کا جائزہ لینے سے کئی اہم تضادات اور سخت شرائط سامنے آئی ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ اسٹیڈیم اسکرین سروس اور شائقین کی ناراضگی کا تنازع
صارفین کو فیفا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جا کر اس ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا جس کی وہ حمایت کر رہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

چھپی ہوئی شرائط: دعوے اور تضاد

دستیاب دستاویزات کی چھان بین سے معلوم ہوا ہے کہ شائقین کو 79 ڈالر کے عوض وہ سہولت نہیں مل رہی جس کا بظاہر وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سروس کے پیچھے چھپی 3 بڑی پابندیاں درج ذیل ہیں:

  • ڈسپلے کا وقت: شائقین کے نام صرف میچ شروع ہونے کی آفیشل سیٹی (کِک آف) سے پہلے ہی اسکرین پر دکھائے جائیں گے۔ لائیو میچ کے دوران شائقین کا نام اسکرین پر نظر نہیں آئے گا۔
  • میڈیا کوریج سے محرومی: یہ سروس صرف اسٹیڈیم کے اندر موجود تماشائیوں کے لیے مخصوص ہے۔ فیفا اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دیتا کہ یہ نام عالمی ٹی وی نشریات  یا ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر لائیو دکھایا جائے گا۔ یعنی ٹی وی پر میچ دیکھنے والے کروڑوں شائقین آپ کا نام نہیں دیکھ سکیں گے۔
  • مقام اور دورانیے کی عدم ضمانت: خریدار اسکرین پر اپنے نام کے ظاہر ہونے کا کوئی مخصوص وقت، مقام یا درست دورانیہ خود منتخب نہیں کر سکتا۔ تمام درخواستوں کا فیصلہ ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی بنیاد پر ہوگا، تاہم فیفا نے یہ سہولت دی ہے کہ میچ سے 72 گھنٹے پہلے تک آرڈر منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ اسٹیڈیم اسکرین سروس اور شائقین کی ناراضگی کا تنازع
اس سروس کو حاصل کرنے کا طریقہ کار انتہائی منظم رکھا گیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

شائقین کی تنظیموں کا ردِعمل

اس نئی تجارتی مہم پر شائقین کی بین الاقوامی تنظیموں نے گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین اور مداحوں کا کہنا ہے کہ فٹ بال ہمیشہ سے غریب اور امیر دونوں طبقوں کا ایک عوامی کھیل رہا ہے، لیکن فیفا ہر چھوٹے بڑے فیچر کو منیٹائز (آمدن کا ذریعہ) بنا کر عام مداحوں کو کھیل سے دُور کر رہا ہے۔ 

اسٹیڈیم کے اسکور بورڈ، جو روایتی طور پر صرف میچ کی صورتحال بتانے کے لیے ہوتے تھے، اب اشتہاری اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جس سے کھیل کا روایتی حسن متاثر ہو رہا ہے۔

فیفا کی جانب سے 79 ڈالر میں اسکرین کی فروخت کا یہ نیا تجربہ جدید کھیل میں بڑھتی ہوئی بے لگام کمائی کے ذرائع کی ایک واضح مثال ہے۔ 

معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فیفا ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے تاکہ عالمی ایونٹ کے انتظامات کی بڑھتی ہوئی لاگت کو پورا کیا جا سکے، لیکن عوامی سطح پر اس اقدام کو کھیل کی روح کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر فٹ بال کے سب سے بڑے میلے کو اسی طرح خالص سرمایہ کاری کا بزنس ماڈل بنا دیا گیا، تو وہ عام شائقین جو اس کھیل کی اصل طاقت ہیں، خود کو اس پورے نظام میں اجنبی محسوس کرنے لگیں گے۔ 

اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کل سے شروع ہونے والے اس عالمی ایونٹ میں کتنے شائقین اس مہنگی سروس کو اپناتے ہیں اور کیا فیفا کو عوامی دباؤ کے بعد اپنی تجارتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑتی ہے یا نہیں۔