اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

فٹبال ورلڈکپ: 3 عرب ممالک سمیت 8 ٹیمیں پہلی فتح کی تلاش میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی چیمپئن کھلاڑیوں کی ٹرافی، یووینٹس اور بائرن میونخ سمیت بڑے فٹ بال کلبز کے لوگو
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا شمار تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ٹورنامنٹ میں کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

48 ٹیموں کی شمولیت کے ساتھ یہ ایڈیشن جہاں سابقہ چیمپئنز کے لیے اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کا چیلنج ہے، وہیں کئی ایسی ٹیموں کے لیے اُمید کی نئی کرن ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ورلڈ کپ کے میدان میں اپنی پہلی فتح کے لیے ترس رہی ہیں۔ 

اگرچہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ برازیل، جرمنی، ارجنٹائن اور فرانس جیسی ٹیموں کے نام سے مزین ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی حقیقت 

بھی ہے جس کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔

تاریخ کی 80 میں سے 20 ٹیمیں ایسی ہیں جنہوں نے ورلڈ کپ میں حصہ تو لیا، لیکن کبھی کوئی میچ نہیں جیتا۔

ریکارڈ بک: ایک طرف برازیل کا تسلط، دوسری طرف پہلی فتح کا انتظار

فیفا کے اعداد و شمار کے مطابق برازیل کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے، جس نے 114 میچ کھیل کر 76 فتوحات حاصل کی ہیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔

اس کے بعد جرمنی (68 فتوحات)، ارجنٹائن (47) اور اٹلی (45) کا نمبر آتا ہے۔ 

دوسری طرف ایسے 20 ممالک ہیں جو اپنے پورے ورلڈ کپ کیریئر میں ایک میچ بھی نہیں جیت سکے۔ ان میں ہنڈوراس (9 میچز)، نیوزی لینڈ (6 میچز) اور مصر (7 میچز) جیسے نام سرفہرست ہیں۔

تاہم ورلڈ کپ 2026 میں ان 20 ٹیموں میں سے 8 ٹیمیں ایسی ہیں جو میدان میں اتر رہی ہیں اور ان کی نظریں اپنی پہلی فتح پر جمی ہوئی ہیں۔ 

ان ٹیموں میں مصر، عراق، قطر، نیوزی لینڈ، پاناما، کینیڈا، ہیٹی اور کانگو ڈیموکریٹک ریپبلک شامل ہیں۔

عرب دنیا کی امیدیں: مصر، عراق اور قطر

ورلڈ کپ 2026 میں 3 عرب ممالک اپنی پہلی فتح کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہیں:

  • مصر: (The Pharaohs) کے لیے یہ انتظار سب سے طویل ہے۔ مصر نے 1934 میں پہلا ورلڈ کپ کھیلا، جس کے بعد 56 سال تک غائب رہا۔ 1990 اور 2018 میں واپسی کے باوجود مصر کبھی میچ نہیں جیت سکا۔ اب محمد صلاح کی قیادت میں بیلجیم، ایران اور نیوزی لینڈ کے گروپ میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے پرعزم ہے۔
  • عراق: (Lions of Mesopotamia)۔ 1986 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں واپسی کر رہے ہیں۔ 1986 میں احمد راضی کا گول آج بھی یادگار ہے۔ اس بار عراق کا سامنا ’گروپ آف ڈیتھ‘ میں فرانس، سینیگال اور ناروے جیسی سخت ٹیموں سے ہوگا، جو ایک کڑا امتحان ہے۔
  • قطر: 2022 کے میزبان کے طور پر پہلی بار شرکت کے بعد قطر نے کافی تجربہ حاصل کیا ہے۔ اب بغیر کسی میزبان کے دباؤ کے قطر پہلی فتح کے لیے میدان میں اترے گا۔ ان کا مقابلہ کینیڈا، بوسنیا اور سوئٹزرلینڈ جیسی ٹیموں سے ہوگا۔

کینیڈا اور میزبان ملک کی امیدیں

کینیڈا، جو 2026 کے 3 میزبان ممالک میں سے ایک ہے، اپنی زمین پر پہلی ورلڈ کپ فتح حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے۔

1986 اور 2022 میں شرکت کے باوجود کینیڈا اب تک جیت سے محروم ہے، تاہم گھریلو تماشائیوں کی حمایت اور ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، وہ اس بار بوسنیا، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خلاف اپنے گروپ میں تاریخ رقم کرنے کے مضبوط امیدوار نظر آتے ہیں۔

دیگر ٹیمیں اور چیلنجز

  • کانگو ڈیموکریٹک ریپبلک: 1974  کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں واپسی کر رہا ہے۔ پرتگال اور کولمبیا کے ساتھ مشکل گروپ میں ان کی نگاہیں ازبکستان کے خلاف میچ پر ہیں۔
  • پاناما: 2018 کے بعد دوسری بار شرکت کر رہا ہے۔ انگلینڈ اور کروشیا کے ساتھ گروپ میں گھانا کے خلاف میچ ان کے لیے اہم ہوگا۔
  • ہیٹی: 1974 کے بعد طویل عرصے بعد واپسی کررہا ہے۔ برازیل، مراکش اور اسکاٹ لینڈ کے گروپ میں ان کی راہ سب سے مشکل ہے۔

ورلڈ کپ 2026: نئے چہروں کا تعارف

ورلڈ کپ 2026 کا وسیع ہونا (یعنی 48 ٹیمیں) نہ صرف ان 8 ممالک کے لیے موقع ہے جو پہلی فتح کی تلاش میں ہیں، بلکہ یہ ٹورنامنٹ 4 ایسے ممالک کو بھی متعارف کرا رہا ہے جو پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں: اردن، کیپ ورڈے، کوراساو اور ازبکستان۔

ان ٹیموں کے لیے یہ ٹورنامنٹ نہ صرف ایک تجربہ ہوگا بلکہ عالمی فٹ بال کے نقشے پر اپنی شناخت بنانے کا پہلا قدم بھی ہوگا۔

ورلڈ کپ 2026 ان 8 ٹیموں کے لیے محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ اپنی  تاریخ لکھنے کا ایک موقع ہے۔ 

فٹ بال کی تاریخ میں اعداد و شمار اہمیت رکھتے ہیں، لیکن میدان کے اندر کا جذبہ اکثر ماہرین کے تجزیوں کو غلط ثابت کر دیتا ہے۔

اگر مصر، عراق، قطر یا کینیڈا اپنی پہلی فتح حاصل کر لیتے ہیں، تو یہ صرف 3 پوائنٹس کا حصول نہیں ہوگا، بلکہ یہ ان ممالک کے فٹ بال کلچر میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ 

یہ ورلڈ کپ ثابت کرے گا کہ فٹ بال کی اصل روح صرف ٹرافی اٹھانے میں نہیں، بلکہ اس جدوجہد میں ہے جو ایک ٹیم اپنی پہلی جیت کی تلاش میں برسوں کرتی ہے۔