سام سنگ اپنی اسمارٹ فون حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت مستقبل کے فولڈ ایبل فونز میں کمپنی کے اپنے تیار کردہ ’ایکسینوس‘ (Exynos) پروسیسرز کا استعمال بڑھایا جائے گا۔
مزید پڑھیں
کمپنی کے اس اقدام سے اسمارٹ فون ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق آئندہ آنے والا ’گلیکسی زی فلپ 8‘ مختلف جغرافیائی خطوں میں مختلف پروسیسرز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ بظاہر عالمی سطح پر پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پیداواری لاگت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
مارکیٹیں تقسیم: یورپ اور جنوبی کوریا سرفہرست
ایک نئی رپورٹ کے مطابق سام سنگ ’گلیکسی زی فلپ 8‘ کے کچھ ورژنز میں ’ایکسینوس 2600‘پروسیسر استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
اسی طرح دیگر اہم عالمی منڈیوں میں کوالکوم (Qualcomm) کے جدید ترین اور طاقتور ’اسنیپ ڈریگن‘ (Snapdragon) پروسیسرز دیے جائیں گے۔
’فون ارینا‘کی رپورٹ اور ’العربیہ بزنس‘ کے جائزے کے مطابق سام سنگ نے یہی حکمتِ عملی گلیکسی ایس 26 سیریز میں بھی اپنائی ہے۔
اِس وقت شمالی امریکہ، چین اور جاپان میں فروخت ہونے والے گلیکسی ایس 26 اور گلیکسی ایس 26 پلس میں ’اسنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جین 5‘استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا کی دیگر منڈیوں میں ’ایکسینوس 2600‘ کو ترجیح دی گئی ہے۔
لاگت میں کمی بنیادی وجہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑی تبدیلی کا سب سے اہم محرک مالیاتی توازن برقرار رکھنا ہے۔
ایکسینوس 2600 کی تیاری کی لاگت کوالکوم کے فلیگ شپ پروسیسر کے مقابلے میں کم ہے، جو سام سنگ کو مہنگائی کے اس دور میں اپنے منافع کے مارجن کو محفوظ رکھنے کا موقع دیتی ہے۔
اس وقت عالمی اسمارٹ فون انڈسٹری میموری، اسٹوریج اور دیگر الیکٹرانک پرزوں کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہی ہے۔
اس بحران ، جسے کچھ ماہرین ’ریم گیڈن‘ (RAMageddon) کا نام دیتے ہیں، سے نمٹنے کے لیے کمپنیاں ایسے حل تلاش کر رہی ہیں جن سے صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر یا قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھتے ہوئے ڈیوائسز تیار کی جا سکیں۔
گلیکسی زی فلپ ہی کیوں؟
ماہرین کا خیال ہے کہ سام سنگ کی جانب سے اس حکمتِ عملی کے لیے ’گلیکسی زی فلپ‘ سیریز کا انتخاب اتفاقی نہیں ہے۔
اس سیریز کے صارفین کی ترجیحات میں ہائی پرفارمنس سے زیادہ فون کا ڈیزائن، فولڈ ایبل اسٹائل اور پورٹیبلٹی شامل ہوتی ہے۔
اس کے برعکس ’گلیکسی زی فولڈ 8‘اور ’گلیکسی زی فولڈ 8 الٹرا‘جیسے فونز ایسے صارفین کے لیے ہیں جو ہر لحاظ سے بہترین اور اعلیٰ ترین کارکردگی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہاں کوالکوم کے پروسیسرز کا استعمال بدستور جاری رہنے کا امکان ہے۔
2027 تک کی منصوبہ بندی
اطلاعات کے مطابق سام سنگ کی یہ حکمتِ عملی صرف زی فلپ 8 تک محدود نہیں رہے گی، کیونکہ کمپنی 2027 تک اپنی دیگر پراڈکٹس میں بھی ایکسینوس کا استعمال بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اگرچہ ان مخصوص ڈیوائسز کے نام سامنے نہیں آئے، لیکن یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ گلیکسی ایس 27 سیریز کے کچھ ماڈلز میں بھی ایکسینوس کی شمولیت ہوگی۔
تاہم’گلیکسی ایس 27 الٹرا‘ اور ’گلیکسی زی فولڈ‘ جیسے پریمیم ماڈلز کے لیے اب بھی کوالکوم کی خدمات ہی پہلی ترجیح ہوں گی۔
اگر سام سنگ کے نئے ایکسینوس پروسیسرز کارکردگی کے میدان میں کوئی غیر معمولی پیش رفت ثابت ہوئے تو کمپنی اپنی حکمتِ عملی میں مزید تبدیلیاں لا سکتی ہے۔
ایکسینوس کی بہتر ساکھ
سام سنگ اس فیصلے پر اس لیے بھی اعتماد کا اظہار کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں میں ایکسینوس پروسیسرز کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے۔
ابتدائی لیکس کے مطابق آنے والا ’ایکسینوس 2700‘ پچھلی جنریشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہونے کی توقع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’گلیکسی ایس 26 پلس‘ میں ایکسینوس 2600 کی کارکردگی نے ماہرین کو حیران کیا ہے۔
ابتدائی ٹیسٹ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس نے ملٹی کور پرفارمنس میں ’آئی فون 17 پرو‘کو پیچھے چھوڑ دیا اور ’گوگل پکسل 10 پرو‘کے مقابلے میں بھی بہتر نتائج دیے ہیں۔
قیمت اور کارکردگی کا چیلنج
سام سنگ کا فیصلہ قیمت اور کارکردگی کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔
کمپنی اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ فولڈ ایبل فونز کی قیمتیں حد سے زیادہ نہ بڑھ جائیں، لیکن دوسری جانب ٹیکنالوجی کے شوقین صارفین اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ایک طبقہ اب بھی یہ مانتا ہے کہ مہنگے فلیگ شپ اسمارٹ فونز میں بلا تفریق صرف طاقتور ترین پروسیسر کا استعمال ہی ہونا چاہیے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ صارف کا تجربہ اس نئی حکمتِ عملی کو کس حد تک قبول کرتا ہے۔