ایران میں آبنائے ہرمز جیسے حساس اسٹریٹیجک معاملے پر متضاد بیانات نے عالمی سطح پر تہران کے طرزِ حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
ایک طرف وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کی مناسبت سے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا، وہیں چند ہی گھنٹوں بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے اس فیصلے کو ’میدانی حالات‘اور ’ایرانی اجازت‘ سے مشروط کر دیا۔
آخر میں مسلح افواج نے آبنائے کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر کے تمام سفارتی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔
عراقچی بمقابلہ قاليباف: بیانیے کی جنگ
جمعہ کے روز عباس عراقچی کی ٹویٹ نے عالمی منڈیوں میں امید کی لہر دوڑائی تھی، لیکن محمد باقر قاليباف کا خطاب اس فائل کو دوبارہ سفارت کاری سے نکال کر میدان (میدانِ جنگ) میں لے آیا۔
- قالیباف نے واضح کیا کہ ہرمز کا کھلنا یا بند ہونا سوشل میڈیا کے ٹرینڈز نہیں بلکہ میدان طے کرتا ہے اور جب تک محاصرہ ختم نہیں ہوتا، ہرمز مستقل نہیں کھلے گا۔ہر گزرنے والا جہاز ایرانی فوج سے اجازت لینے کا پابند ہوگا۔
- قاليباف کا یہ بیان محض ایک وضاحت نہیں تھی، بلکہ یہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ خود مختار معاملات (Sovereign issues) میں حتمی فیصلہ ان اداروں کا ہے جو دفاع اور طاقت پر گرفت رکھتے ہیں، نہ کہ صرف وزارتِ خارجہ کا۔
پاسدارانِ انقلاب کا غصہ
اس تمام صورتحال میں پاسدارانِ انقلاب کے قریبی سمجھے جانے والے میڈیا ہاؤس تسنیم نیوز ایجنسی نے عراقچی کے بیان پر سخت تنقید کی۔
نیوز ایجنسی نے عراقچی کی ٹویٹ کو نامکمل اور ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بحری گزرگاہ کے شرائط و ضوابط کے حوالے سے ابہام پیدا ہوا ہے۔
تسنیم نے مطالبہ کیا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کو مداخلت کرنی چاہیے تاکہ وزارتِ خارجہ سمیت تمام ادارے عوامی معلومات فراہم کرتے وقت ایک نظم و ضبط کے پابند ہوں اور سیکیورٹی اداروں کی مرضی کے بغیر کوئی اعلان نہ کریں۔
پزشکیان حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا وزن
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حکومت، جو نسبتاً اعتدال پسند اور اصلاح پسند کہلاتی ہے، اس وقت ایک مشکل مقام پر کھڑی ہے۔
ماہرین کے مطابق پزشکیان ایک عملیت پسند خطاب کے ساتھ آئے ہیں تاکہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کم کر سکیں، لیکن خارجہ پالیسی اور ایٹمی پروگرام جیسے سخت معاملات میں ان کے پاس محدود اختیارات ہیں۔
18 مارچ کو علی لاریجانی کے قتل کے بعد ایران کے اندر سیکیورٹی اداروں کا وزن مزید بڑھ گیا ہے اور قاليباف جیسے رہنما، جن کا پس منظر پاسدارانِ انقلاب سے ہے، اب سیاست اور سیکیورٹی کے درمیان ایک مضبوط کڑی بن کر ابھرے ہیں۔
کیا یہ تضادات حقیقی ہیں؟
تسنیم نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر ان چیف، کیان عبداللہی کا کہنا ہے کہ عراقچی اور قاليباف کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں نے ایک ہی بات کی کہ ہرمز کا کھلنا مشروط اور محدود ہے، تاہم طریقہ کار مختلف تھا، لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ تضاد دراصل اس پرانی کشمکش کا تسلسل ہے جس کا ذکر 2021 میں سابق وزیر خارجہ جواد ظریف کی لیک ہونے والی آڈیو میں ملا تھا۔
جواد ظریف نے کہا تھا کہ ’’مجھے اکثر میدان (فوجی مفادات) کی خاطر سفارت کاری کی قربانی دینی پڑتی تھی‘‘۔
عراقچی اور قاليباف کا حالیہ تنازع ثابت کرتا ہے کہ ایران میں جمہوریت اور نظام کے درمیان سرحدیں واضح ہیں۔
وزارتِ خارجہ ایک چہرہ ضرور ہے، لیکن اصل طاقت کا سرچشمہ وہ میدان ہے جس کی قیادت پاسدارانِ انقلاب اور سپریم لیڈر کے ہاتھ میں ہے۔
جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان میدانی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، تب تک سفارتی بیانات کی حیثیت ثانوی ہی رہے گی۔
آبنائے ہرمز پر جاری یہ تضاد دراصل ایرانی نظام کے اندرونی توازن کو ظاہر کرتا ہے، جہاں سیکیورٹی اور دفاعی مفادات ہمیشہ سفارتی مصلحتوں پر غالب رہتے ہیں۔