اہم خبریں
21 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

اسباب سے بے نیازی: امِ موسیٰؑ کے ’دریا میں ڈالنے‘ سے ملنے والا سبق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسباب سے بے نیازی ام موسیٰؑ دریا سبق
(فوٹو: انٹرنیٹ)

برسوں کے طویل سکوت، قلم کی خاموشی اور کتابوں سے دُوری کے بعد جب واپسی ہوئی تو ذہن میں ایک ہی سوال تھا: میں اتنے عرصے کہاں تھا؟

مزید پڑھیں

گزشتہ 3 برس کی زندگی پر نظر ڈالی تو مادی کامیابیوں کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے صرف بھٹکنے اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے سامنے ہی دکھائی دیے۔ میری روح اُن راستوں پر دوڑتے ہوئے تھک چکی تھی جو اِس کے تھے ہی نہیں۔

اِسی تنہائی اور فکری دھند کے عالم میں سامنے رکھا کافی کا کپ بھی میری حیرت کا تماشائی تھا، گھر کے کونے سے قرآن کی صدا بلند ہوئی۔ 

وہ دھیمی اور سکون بخش آواز تذبذب کے بادلوں کو چھٹاتی ہوئی میری سماعتوں سے ٹکرائی: ’’ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ‘‘ (پس اسے دریا میں ڈال دو)۔

یہ آواز میری روح کے لیے ایک راہ نما بن گئی۔ مجھے احساس ہوا کہ  چھوڑ دینا دراصل کھونا نہیں ہے، بلکہ یہ ملکیت کے وہم سے نکل کر ’استغنا‘ (بے نیازی) کے یقین تک پہنچنے کا نام ہے۔ 

یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے وجود کو تقدیر کے سہارے ہر بوجھ سے آزاد کر دیتا ہے۔

چھوڑنے ہی میں پانے کا راز ہے

انسانی وجود، بالخصوص روح کے دستور کا یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ’بھرنا‘ صرف ’خالی ہونے‘ ہی سے ممکن ہے۔ قرآنی فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب تک تعلق کا سورج غروب نہیں ہوتا، وصال کی صبح طلوع نہیں ہو سکتی۔

قرآن کی نظر میں چھوڑ دینا کوئی منفی عمل یا دنیا سے بیزاری نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ انسان کا جوہر اس سے کہیں بلند و برتر ہے کہ وہ فانی مادی اشیا کی قید میں رہے۔

ہم دراصل چیزوں کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ ہم انہیں کھو رہے ہیں، بلکہ اس لیے چھوڑتے ہیں تاکہ ہم ’خود‘ کو پا سکیں۔ وہی ’خود‘ جو اِن چیزوں کے ہجوم میں کہیں گم ہو گئی تھی، جو ہماری اصل سے مطابقت ہی نہیں رکھتی تھیں۔

اسباب کے بجائے مسبب الاسباب پر تکیہ

چھوڑ دینے کے فلسفے کی بہترین مثال امِ موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا حکم ہے: ’’پس جب تمہیں اس (بچے) کے بارے میں خوف محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دو، اور نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ‘‘۔

یہ حکم محض مادی نجات کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ اسباب سے ہٹ کر ’اللہ کے بھروسے بے نیازی‘ کا ایک عظیم درس تھا۔

یہیں سے یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی قوت پکڑنے  میں نہیں بلکہ چھوڑ دینے میں چھپی ہے۔ جس لمحے ماں نے اپنی ممتا کی مادی آغوش کی حفاظت کو چھوڑا، وہ تقدیرِ الٰہی  کی مطلق پناہ میں داخل ہو گئیں۔ 

اگر وہ خوف کے مارے بچے کو اپنے سینے سے لگائے رکھتیں تو وہ تاریخ اور وقت دونوں سے ضائع ہو جاتا، لیکن جب انہوں نے اسے اللہ کے سپرد کر دیا تو اللہ نے اسے ایک ’نبی‘ بنا کر واپس لوٹایا۔

روحانی بقا اور فانی اشیا سے ’ہجرِ جمیل‘

انسان فطری طور پر تعلق کا خوگر ہے، وہ ہمیشہ کسی سہارے کی تلاش میں رہتا ہے، لیکن روح کا المیہ تب شروع ہوتا ہے جب وہ فانی سے دل لگا لیتی ہے۔

یہیں پر قرآن ’ہجرِ جمیل‘ یعنی خوبصورت علیحدگی کی دعوت دیتا ہے۔  ایک ایسی علیحدگی جس میں کوئی بغض نہ ہو، بلکہ وہ بصیرت ہو جو یہ دیکھ سکے کہ خیر اس میں ہے جو اللہ نے چنا ہے، نہ کہ اس میں جس پر ہماری انا (Ego) بضد ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے لختِ جگر کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا، تو وہ کوئی سنگدلی نہ تھی، بلکہ انسانی ارادے کو اللہ کے ارادہِ کلی کے تابع کرنا تھا۔ 

اسی طرح اصحابِ کہف  نے شہر کی چکا چوند، جاہ و منصب اور سماجی رتبے کو خیرباد کہہ کر ایک غار کی تاریکی کو چُنا۔ وہاں انہوں نے دریافت کیا کہ اللہ کے ساتھ تنہائی ہی وجود کا اصل مرکز ہے اور باطل سے کٹ جانا ہی حق سے جڑنے کا واحد راستہ ہے۔

ملکیت کے دور میں آزادی کا تصور

آج ہم ملکیت کے عہد میں جی رہے ہیں، جہاں انسان کی پہچان اس کے لباس، اس کے مال اور ڈیجیٹل دنیا میں اس کے ظاہری جاہ و جلال سے ہوتی ہے، لیکن قرآنی نقطہ نظر اس مساوات کو الٹ دیتا ہے۔ یہاں چھوڑ دینا ہی دراصل مکمل خودمختاری یا آزادی کا واحد راستہ ہے۔

جب آپ ’کھونے‘ کے ڈر سے خود کو آزاد کر لیتے ہیں، رزق کی فکر سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور جھوٹی سماجی واہ واہ کی دوڑ سے باہر نکل آتے ہیں، تب ہی آپ کی روح بلندی کی طرف پرواز شروع کرتی ہے۔ 

چھوڑ دینے کا مطلب یہ جان لینا ہے کہ ہر وہ چیز جس کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس کے ’مالک‘ ہیں، دراصل وہی آپ کی ’مالک‘  بن کر آپ کی حرکت کو مقید کر رہی ہے۔ 

جب آپ اسے سچے دل سے اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو آپ اشیا کی غلامی سے نکل کر ’اشیا سمیت ہر چیز کے رب‘کی وسعتوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔

معراجِ استغنا: ’میں‘ سے ’وہ‘ تک کا سفر

قرآنی وژن میں چھوڑ دینا کسی خلا میں گرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ’وجود کی انجینئرنگ‘ ہے، جہاں انسان مطلق (خدا) کے ساتھ اپنے تعلق کی حدود کو دوبارہ متعین کرتا ہے۔

یہ اپنی ’انا‘ کے قید خانے سے فرار ہے تاکہ ’ہُو‘ (خدا) کی وسعتوں میں گم ہوا جا سکے اور جس نے توکل کے دریا میں اپنا قطرہ  ڈال دیا، اس نے اسے کھویا نہیں بلکہ اسے پورے سمندر  کی صورت میں پا لیا۔