امریکہ کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اکثر جنگوں میں شکست کو بھی کامیابی قرار دیتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ماضی پر نظر دوڑائیں تو ویتنام اور عراق میں بھی واشنگٹن نے اپنی حکمتِ عملی کو کامیاب ثابت کرنے کی کوششیں کیں مگر ان کے نتائج اُلٹ ہی نکلے۔
موجودہ دور میں بھی ایران کے ساتھ حالیہ تنازع اور اپریل میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کامیابی کے دعووں پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
جنگ کے فوری اور غیر تسلی بخش نتائج
حالیہ تنازع کے آغاز پر امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھایا، جس کے نتیجے میں کچھ ایرانی کمانڈروں اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے بنیادی مقاصد، جیسے حکومت یا نظام کی تبدیلی اور ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ حاصل نہیں ہو سکے۔
اس کے برعکس ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں پر حملے کر کے عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے اپنی تزویراتی قوت کا مظاہرہ کیا۔
داخلی سیاست پر جنگ کے منفی اثرات
اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی انتخابی ناکامی ثابت ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی بلند قیمتیں اور مہنگائی امریکی ووٹرز کے غصے میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اسی طرح نومبر میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس یا سینیٹ میں ممکنہ شکست ٹرمپ کے ایجنڈے کو کمزور کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں قدامت پسند حلقے، جو خارجی جنگوں کے مخالف ہیں، وہ بھی انتظامیہ کی کارکردگی پر مایوسی کا شکار ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کا نیا منظرنامہ
حالیہ جنگ نے خطے کے ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔
خطے میں واشنگٹن کی سیکیورٹی چھتری پر اعتماد میں کمی آئی ہے کیونکہ امریکہ نے خطے کو ایک غیر ضروری جنگ میں دھکیلا ہے۔
اب خلیجی ممالک سیکیورٹی کے لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک، چین اور دیگر شراکت داروں کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایرانی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
نیٹو اور ٹرانس اٹلانٹک میں دراڑ
یورپی اتحادیوں کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی میں تعاون نہ کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ نے فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان بداعتمادی کی یہ فضا نیٹو کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق یہ تنازع نیٹو کو ایک ایسے مقام پر لے آیا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں اور یورپ اب ’امریکہ کے بغیر‘ کے دور کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
چین کا بڑھتا ہوا عالمی اثر و رسوخ
اس تنازع کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہوا ہے۔
بیجنگ نے نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے سنبھالا بلکہ عالمی سطح پر ایک زیادہ قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھرا۔
آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکہ کا چین سے مدد مانگنا اور پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا ہونا، ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس جنگ سے جو حاصل کیا، وہ اس کی تزویراتی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے سامنے انتہائی قلیل ہے۔
واشنگٹن نے اپنی عسکری برتری کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔
یہ صورتحال طویل مدت تک عالمی نظام میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کرتی رہے گی، جس سے عالمی طاقت کے توازن میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔