براہ راست نشریات

ایران کا بحری محاصرہ ختم، ہرمز کھولنے کی الٹی گنتی شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے ابتدائی ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری محاصرہ ختم کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ کئی ایرانی تیل بردار اور تجارتی جہاز خلیج عمان میں امریکی پابندیوں کے علاقے سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی اور معاہدے کا متن جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے آج منگل کو اعلان کیا ہے کہ امریکا نے تقریباً دو ماہ سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری محاصرہ ختم کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے متوقع معاہدے پر باضابطہ دستخط ابھی ہونا باقی ہیں۔

روانچی کے مطابق بحری پابندیوں کا خاتمہ تہران کے بنیادی مطالبات میں شامل تھا، اور یہ عمل سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو ہونے والی دستخطی تقریب سے پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

العربیہ کے مطابق ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی امریکی، ایرانی مفاہمت کے بعد متعدد ایرانی جہاز خلیج عمان میں اس بحری علاقے سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے جہاں امریکا کی جانب سے پابندیاں نافذ تھیں۔

مزید پڑھیں

اطلاعات کے مطابق کم از کم 3 آئل ٹینکرز اور دو مال بردار جہاز پیر کی شام اس علاقے سے بغیر کسی رکاوٹ یا حادثے کے گزرے، جسے معاہدے پر عمل درآمد کا پہلا عملی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران فریم ورک معاہدے تک پہنچے ہیں، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی بحالی سب سے اہم اور حساس موضوعات میں شامل رہی۔ 

ایران نے معاہدے پر دستخط کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندی فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Interactive Infographic

امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کرنا شروع کر دیا

مفاہمتی یادداشت کا پہلا عملی نتیجہ؛ ہرمز کھلنے، جہاز رانی بحال ہونے اور جنگ بندی فریم ورک پر دستخط کی تیاری
0ماہ کا محاصرہ
0اہم نکات
0اہم آبی گزرگاہ
0متاثرہ محاذ
معاہدے سے بحری راستوں کی بحالی تک
🚢 بحری محاصرہ
🤝 مفاہمتی یادداشت
🌊 خلیج عمان سے گزرگاہ
🛢️ ہرمز کی بحالی
📜 سوئٹزرلینڈ میں دستخط
10 اہم ترین نکات

امریکا نے ایران پر تقریباً دو ماہ سے جاری بحری محاصرہ ختم کرنا شروع کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا عملی نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق بحری پابندیوں کا خاتمہ تہران کا بنیادی مطالبہ تھا اور یہ اقدام معاہدے پر باضابطہ دستخط سے پہلے ہی نافذ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

کئی ایرانی تیل بردار اور تجارتی جہاز خلیج عمان میں امریکی پابندیوں والے علاقے سے بحفاظت گزر چکے ہیں، جس سے بحری نقل و حمل کی بحالی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے فریم ورک معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بحالی مذاکرات کا سب سے اہم اور حساس موضوع رہی، اور ایران نے معاہدے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس دستاویز کو امریکی کانگریس کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔

امریکی انتظامیہ آئندہ دو روز میں مفاہمتی یادداشت کا متن عوام کے سامنے جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس کی تفصیلات واضح ہو سکیں۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر عالمی جہاز رانی کے لیے کھول دی جائے گی، جس سے عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی راستوں کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق معاہدے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا، جس میں حتمی اور جامع معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

مفاہمتی یادداشت صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ لبنان اور اسرائیل سے متعلق سکیورٹی معاملات کو بھی شامل کرتی ہے، اور اس کا مرکزی مقصد تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا قیام ہے۔

ایک سطر میں پورا مضمون

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد بحری محاصرہ ختم ہونا شروع ہو گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور سوئٹزرلینڈ میں جنگ بندی فریم ورک پر دستخط اس معاہدے کے سب سے اہم عملی نتائج سمجھے جا رہے ہیں۔

BY: overseaspost.net

اسی دوران جہازوں کی نگرانی کرنے والی سروس ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے بتایا کہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر امریکی بحری پابندیوں کی لائن عبور کر چکا ہے، جبکہ دیگر کئی جہاز بھی علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی 7 اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کو امریکی کانگریس کے سامنے جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا اور انہیں توقع ہے کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل تیزی سے آگے بڑھے گا۔

امریکا ایران معاہدہ

تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آئیں، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کے اصل نکات اور شرائط کے بارے میں تجسس برقرار ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ نفاذ جمعہ سے شروع ہوگا، اور جنگ کے خاتمے کا اعلان اس معاہدے کے پہلے مرحلے کا سب سے اہم جزو ہے۔

عراقچی کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوگا، جس کا مقصد ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جوہری پروگرام سے متعلق معاملات مذاکرات کے آخری مرحلے میں زیر بحث آئیں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے یا لبنانی سرزمین پر قبضے کو امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

عراقچی کا کہنا تھا کہ اس مفاہمتی یادداشت میں صرف امریکا اور ایران ہی شامل نہیں، بلکہ اس کے اثرات اسرائیل اور لبنان کے محاذ تک بھی پھیلتے ہیں، اور اس کا سب سے اہم نکتہ تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔