براہ راست نشریات

معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلاف، سی آئی اے نے سوالات اٹھا دیئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت نے جہاں جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی امید پیدا کی ہے، وہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر شدید اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے بعد جوہری پروگرام پر مطلوبہ رعایتیں دینے سے گریز کر سکتا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں واشنگٹن کی تمام بنیادی شرائط محفوظ ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر اختلافات سامنے آگئے ہیں، جہاں امریکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ایران کی نیت اور مستقبل کے جوہری وعدوں پر سنجیدہ خدشات ظاہر کئے گئے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف

 

 نے صدر ٹرمپ اور اعلیٰ حکام کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دستیاب انٹیلی جنس معلومات سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ ایران مذاکرات کے دوران جو مؤقف اختیار کر رہا ہے، ممکن ہے وہ داخلی سطح پر اس سے مختلف حکمت عملی پر عمل پیرا ہو۔ 

مزید پڑھیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایران کے ساتھ موجودہ مفاہمت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

ان کا مؤقف ہے کہ تہران ممکنہ طور پر فوری اقتصادی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی مطالبات پر مکمل تعاون کا ارادہ واضح نہیں۔

دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کوشنر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے حامی ہیں۔ 

Interactive Infographic

امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر ٹرمپ انتظامیہ تقسیم

سی آئی اے، وزارت خارجہ اور پینٹاگون کے تحفظات؛ وائٹ ہاؤس مذاکراتی فریم ورک کا دفاع کر رہا ہے
0روزہ فریم ورک
0اہم نکات
0انتظامیہ کے دھڑے
اختلاف کہاں ہے؟
🕵️ انٹیلی جنس شکوک
⚖️ وائٹ ہاؤس دفاع
🤝 مذاکراتی فریم ورک
⚠️ ایران کی نیت پر سوال
10 اہم ترین نکات

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر واضح اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات ایران کی حقیقی نیت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی معاہدے کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور ایران کے وعدوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے۔

نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکراتی عمل اور مفاہمت کو آگے بڑھانے کے حامی ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران اندرونی سطح پر جو باتیں کر رہا ہے، وہی مؤقف امریکی حکام اور ثالثوں کے سامنے پیش نہیں کر رہا۔

وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ مفاہمتی یادداشت امریکا کی بنیادی شرائط کا تحفظ کرتی ہے، خاص طور پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے حوالے سے۔

موجودہ مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدہ نہیں بلکہ 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک ہے، جس کے دوران تفصیلی مذاکرات جاری رہیں گے۔

یادداشت کے تحت امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ سطح برقرار رکھے گا۔

حتمی معاہدے کی صورت میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

اصل خدشہ یہ ہے کہ ایران ابتدائی مرحلے میں معاشی اور سیاسی فوائد حاصل کر لے، لیکن بعد میں امریکا کی مطلوبہ جوہری شرائط پوری نہ کرے۔

ایک سطر میں پورا مضمون

مفاہمتی یادداشت کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بنیادی اختلاف یہ ہے کہ آیا ایران واقعی جوہری رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے یا صرف وقت حاصل کرکے معاشی اور سیاسی فوائد سمیٹنا چاہتا ہے۔

BY: overseaspost.net

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت کے اعلان سے قبل کئی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے جن میں ایسی انٹیلی جنس رپورٹس کا جائزہ لیا گیا جن سے معلوم ہوا کہ ایرانی حکام داخلی نشستوں میں جو باتیں کر رہے تھے، وہی پیغامات امریکی ثالثوں اور مذاکرات کاروں تک نہیں پہنچائے جا رہے تھے۔

ایک ذریعے کے مطابق امریکی اداروں کا خیال ہے کہ ایران کے اندرونی مباحث اور بین الاقوامی وعدوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے، جس سے تہران کی اصل ترجیحات پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

ان خدشات کے باوجود وائٹ ہاؤس نے معاہدے کا دفاع کیا ہے۔ 

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیصلہ کرنے سے پہلے تمام آراء سنیں اور ان کا خیال ہے کہ موجودہ مفاہمت امریکی ’ریڈ لائنز‘ کا تحفظ کرتی ہے۔

ان ریڈ لائنز میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی ذخیرہ اندوزی محدود کرنا اور عالمی بحری راستوں کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کی ضمانت شامل ہے۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 01 28 21 ص

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک آئندہ 60 روز کے دوران ایک تفصیلی اور حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے۔ 

ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

اسی سلسلے میں جمعہ کو نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات متوقع ہے، جس میں قطر اور پاکستان کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

مذکورہ یادداشت کے مطابق مذاکراتی مدت کے دوران ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد کرنے یا خطے میں اضافی فوجی تعیناتی سے گریز کرے گا۔

دستاویز میں ایرانی منجمد اثاثوں کے مستقبل پر بھی بات چیت شامل ہے، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ فنڈز کی کسی بھی ممکنہ رہائی کا انحصار ایران کی عملی پیش رفت پر ہوگا۔

ChatGPT Image 14 يونيو 2026، 10 15 00 ص

معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا فریم ورک بھی شامل ہے، جبکہ ایران نے ابتدائی 60 دنوں تک جہازوں سے اضافی فیس نہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

معاہدے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران موجودہ مفاہمت سے اقتصادی اور سیاسی فوائد حاصل کر سکتا ہے لیکن بعد میں مطلوبہ جوہری رعایتیں دینے سے گریز کر سکتا ہے۔ 

اس کے برعکس امریکی انتظامیہ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ تہران کو ملنے والی ہر رعایت اس کی جانب سے اٹھائے جانے والے قابلِ تصدیق اقدامات سے مشروط ہوگی۔

ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہوں گے اور یہی واضح کریں گے کہ آیا ایران واقعی جوہری پروگرام پر بڑی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے یا موجودہ مذاکرات صرف وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہیں۔