براہ راست نشریات

ٹرمپ بمقابلہ نتن یاہو: کیا امریکا، اسرائیل کو لگام دے سکتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ نیتن یاہو اختلافات

امریکا اور اسرائیل کے تعلقات نازک مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت تنقید، لبنان سے ممکنہ اسرائیلی انخلا کی امریکی خواہش، اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
نیتن یاہو اسرائیل کی فوجی آزادی برقرار رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر سیاسی سمجھوتے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں لبنان اور ایران سے متعلق معاملات پر دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے اور نئے انتظامات پر زور دے رہا ہے، جبکہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں اور آزادیٔ عمل کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملے پر سخت تنقید کی۔ 

ٹرمپ نے حملے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے ہونے والا حملہ محدود نوعیت کا تھا اور اس کے جواب میں بیروت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں تھا۔

مزید پڑھیں

ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں نتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل خود کو امریکی، ایرانی مفاہمت کے لبنانی حصے کا پابند نہیں سمجھتا۔ 

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودہ پوزیشنز برقرار رکھے گی اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی، جن میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ بات چیت میں جنوبی لبنان اور شام کے جبل الشیخ کے علاقوں میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا معاملہ اٹھایا۔ 

اطلاعات کے مطابق امریکی تجاویز میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ 5 اہم مقامات اور جبل الشیخ سے انخلا شامل ہے، جس کے بدلے میں مکمل جنگ بندی اور جارحانہ فوجی سرگرمیوں کا خاتمہ متوقع ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران معاہدہ

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں بڑھتی بداعتمادی

بیروت حملہ، لبنانی شق اور ایران معاہدے پر اختلافات

⚠️ بیروت حملہ

ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملے کو غیر ضروری قرار دیا۔

🇮🇱 اسرائیلی مؤقف

نیتن یاہو نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل لبنانی شق کا پابند نہیں۔

🇺🇸 واشنگٹن کا دباؤ

امریکا جنوبی لبنان اور جبل الشیخ سے اسرائیلی انخلا پر زور دے رہا ہے۔

🛡️ فوجی آزادی کا خدشہ

اسرائیل کو ڈر ہے کہ امریکا۔ایران معاہدہ اس کی فوجی کارروائیوں کو محدود کر سکتا ہے۔

🚫 حملہ رکوا دیا گیا

ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف اسرائیلی حملے کا منصوبہ روک دیا۔

🤝 ہنگامی ملاقات

نیتن یاہو ٹرمپ سے فوری ملاقات کے خواہاں ہیں۔

💰 اقتصادی دباؤ

اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

📉 بداعتمادی

ماہرین دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

خلاصہ: ایران معاہدے کے پس منظر میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات نئے دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکی شرائط اس کی علاقائی فوجی آزادی محدود کر سکتی ہیں۔
overseaspost.net

اسرائیلی حلقوں کا خیال ہے کہ واشنگٹن پہلے ہی لبنان میں اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں پر عملی طور پر کچھ پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ 

تل ابیب کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی آزادی متاثر نہ ہو۔

ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں سوال کیا کہ لبنان میں ایسی کارروائی کیوں کی گئی جس کی ضرورت نہیں تھی۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر اپنی ناراضی اسرائیلی وزیراعظم تک پہنچا دی ہے۔

یہ صورتحال ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی مرحلے سے مختلف ہے، جب واشنگٹن اور تل ابیب مکمل ہم آہنگی کا تاثر دے رہے تھے۔ 

تاہم حالیہ مہینوں میں اختلافات بڑھتے گئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ٹرمپ انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور لڑائی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔

امریکا ایران معاہدہ

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف ایک مجوزہ اسرائیلی حملہ بھی رکوا دیا تھا، جب تہران نے جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے۔

ادھر نتن یاہو امریکی صدر سے جلد ملاقات کے خواہاں ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ جی 7 سربراہی اجلاس کے بعد ملاقات کے انتظامات کر رہے ہیں۔ 

اس ملاقات میں اسرائیل ایران سے جاری مذاکرات، لبنان میں اپنی عسکری حکمتِ عملی اور مستقبل کے ممکنہ امریکی۔ایرانی معاہدے پر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیل کے اندر بھی اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا گیا تو اس سے تہران پر موجود اقتصادی دباؤ کم ہو سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام پر سخت اقدامات کے بغیر ایسا معاہدہ ایران کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نیتن یاہو اختلافات

امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے بعض مشیروکا نتن یاہو پر اعتماد پہلے کی نسبت کم ہوا ہے۔ 

دوسری جانب ایران ان اختلافات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مبصرین کے مطابق تہران ان کشیدگیوں سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل اور امریکا کے درمیان فاصلے بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اگرچہ نتن یاہو اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم متعدد تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ حالیہ دنوں میں اسرائیل پر جس انداز میں دباؤ ڈال رہی ہے، اس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں کم ہی ملتی ہے۔