امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی مفاہمت پر اتفاق کر لیا ہے، جس پر آئندہ جمعہ کو جنیوا میں دستخط متوقع ہیں۔
معاہدے کے بعد دونوں ممالک 60 روزہ مذاکراتی مرحلے میں داخل ہوں گے، جہاں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم معاملات پر بات چیت ہوگی۔
پاکستان نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
امریکا اور ایران نے 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمت تک پہنچنے کا اعلان کیا ہے، جسے بحران کے آغاز کے بعد سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شام ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔
اس سے کچھ ہی دیر قبل پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی، جن کا ملک اس عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے کی تصدیق کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق مفاہمتی یادداشت ’ایم او یو‘ پر آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
مزید پڑھیں
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی وفد کی نمائندگی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
اگر یہ ملاقات طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوتی ہے تو یہ 1979 کے ایرانی انقلاب اور سفارتی تعلقات کے خاتمے کے بعد ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے درمیان ایک تاریخی موقع تصور کیا جائے گا۔
امریکی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کی ذاتی شرکت کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
دستخطی تقریب سے پہلے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں فریقوں کے ساتھ الگ الگ تیاری اجلاس منعقد کیے جائیں گے، جن کا مقصد حتمی انتظامات مکمل کرنا اور آئندہ تکنیکی مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔
امریکا۔ایران معاہدہ 24 گھنٹوں میں؟
ڈیجیٹل دستخط، تکنیکی مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی اہم تفصیلات
⏳ 24 گھنٹے
معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں طے پانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
🖊️ الیکٹرانک دستخط
معاہدے پر ابتدائی طور پر ڈیجیٹل طریقے سے دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
🇵🇰 پاکستان کا کردار
شہباز شریف کے مطابق دستخط کے بعد تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے۔
⚖️ قانونی حیثیت
الیکٹرانک دستخط امریکا اور یورپ میں قانونی طور پر تسلیم شدہ ہیں۔
🔐 سیکیورٹی وجوہات
سفری اور سیکیورٹی خدشات ڈیجیٹل دستخط کے فیصلے میں اہم عنصر بن سکتے ہیں۔
🌐 عالمی رجحان
کورونا وبا کے بعد بین الاقوامی سطح پر الیکٹرانک دستخطوں کا استعمال بڑھا ہے۔
⚡ تاخیر سے بچاؤ
ڈیجیٹل طریقہ معاہدے کی تکمیل میں تاخیر کے امکانات کم کر سکتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں جنیوا میں ہونے والی تقریب سے قبل آخری مرحلہ ہوں گی۔ اسی سلسلے میں قطری ثالثوں نے گزشتہ روز تہران میں تقریباً 17 گھنٹے طویل مذاکراتی دور مکمل کیا۔
60 روزہ مذاکراتی مرحلہ
یہ ابتدائی معاہدہ حتمی تصفیہ نہیں سمجھا جا رہا۔
دستخط کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع ہوگا، جس میں اہم اور پیچیدہ معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ان مذاکرات میں ایرانی جوہری پروگرام، تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل اور آبنائے ہرمز سے متعلق سکیورٹی و انتظامی معاملات زیر بحث آئیں گے۔
خدشات اب بھی برقرار
اگرچہ معاہدے کے اعلان کے بعد امید کی فضا پیدا ہوئی ہے، تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ 60 روزہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔
جوہری پروگرام، یورینیم کے ذخائر اور مالیاتی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی آپشن دوبارہ زیر غور آ سکتا ہے۔
پاکستان کا خیرمقدم
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت عالمی برادری کے لیے اطمینان کا باعث ہے اور عالمی معیشت و مالیاتی منڈیوں میں اعتماد پیدا کرے گی، خصوصاً ان ترقی پذیر ممالک کے لیے جو علاقائی عدم استحکام سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے امریکا اور ایران دونوں کی امن کے لیے آمادگی کو سراہتے ہوئے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان باقی ماندہ معاملات کے حل اور امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
اسرائیل کے تحفظات
دوسری جانب اسرائیل میں معاہدے کے حوالے سے تحفظات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، حالانکہ ابھی تک مفاہمتی یادداشت کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے گفتگو میں واضح کیا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی موجودہ عسکری پوزیشن برقرار رکھے گا اور وہ لبنان سے متعلق کسی شق کا خود کو پابند نہیں سمجھتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ سے منسوب خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر لبنان میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھے گی۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی حملے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
نظریں جنیوا پر
اب عالمی توجہ جنیوا میں ہونے والی متوقع دستخطی تقریب پر مرکوز ہے، جہاں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ ابتدائی مفاہمت ایک جامع اور مستقل معاہدے کی بنیاد بن سکے گی یا پھر باقی ماندہ اختلافات دوبارہ کشیدگی کو جنم دیں گے۔