اہم خبریں
13 June, 2026
--:--:--

ایران اور امریکا کے متوقع معاہدے میں افزودہ یورینیم کا کیا ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کا افزودہ یورینیم

امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے میں افزودہ یورینیم کا معاملہ سب سے پیچیدہ اور حساس نکتہ بن گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے اور جوہری پروگرام محدود کرنے پر آمادہ ہے جبکہ ایرانی حکام اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق قرار دے رہے ہیں۔
اسی دوران انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنے یورینیم ذخائر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سرنگوں اور حفاظتی نظام کو مضبوط کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے تحت واشنگٹن افزودہ جوہری مواد حاصل کرے گا اور اس معاہدے میں معائنہ و نگرانی کا ایک جامع نظام بھی شامل ہوگا۔ 

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو الگ تھلگ محفوظ کر دیا ہے اور بعض سرنگوں کے داخلی راستوں کو بارودی سرنگوں سے محفوظ بنایا ہے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے میں افزودہ مواد کی منتقلی واضح طور پر شامل ہے اور فریقین افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے اور اسے ہٹانے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدہ امریکی محاصرہ ختم اور ایرانی جوہری پروگرام کے خاتمے کا باعث بنے گا، جبکہ ایران معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں معاشی فوائد حاصل کرے گا۔

اسی تناظر میں ایک امریکی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونے پر رضامند ہو گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایرانی حکام اور ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران مفاہمتی یادداشت میں اس بات کی تصدیق کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کا مالک بنے گا۔

رپورٹ کے مطابق انتہائی افزودہ یورینیم اور ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل آئندہ مذاکراتی مراحل تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

ایران جوہری معاہدہ

افزودہ یورینیم معاہدے کا مرکزی نکتہ

امریکی دعوؤں کے مطابق مجوزہ معاہدے میں افزودہ جوہری مواد کی منتقلی، نگرانی کا نظام اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اہم شقیں شامل ہیں۔

☢️

408 کلوگرام

انتہائی افزودہ یورینیم کا تخمینہ

🔍

IAEA

معائنہ و نگرانی کا ممکنہ کردار

🚚

منتقلی

افزودہ مواد ہٹانے کی شق

⚠️

اختلاف

ایران اور امریکا کے متضاد بیانات

📌 مجوزہ معاہدے کے اہم نکات

☢️ افزودہ یورینیم کی منتقلی
🔎 جامع معائنہ اور نگرانی
💰 پابندیوں میں ممکنہ نرمی
🤝 اقتصادی فوائد کا وعدہ

🔍 متضاد مؤقف

🇺🇸 امریکا کا دعویٰ

امریکی حکام کے مطابق ایران افزودہ یورینیم منتقل کرنے، اسے تلف کرنے اور جوہری پروگرام محدود یا ختم کرنے پر آمادہ ہے۔

🇮🇷 ایران کا مؤقف

ایرانی حکام کے مطابق افزودگی، ذخائر کی منتقلی یا جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق باتیں فی الحال میڈیا قیاس آرائیاں ہیں۔

🕳️ محفوظ ذخائر

رپورٹس کے مطابق ایران نے بعض سرنگوں کے داخلی راستے بند اور محفوظ کر دیے ہیں، جس سے افزودہ یورینیم تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔

📌 خلاصہ

افزودہ یورینیم کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان سب سے پیچیدہ نکتہ بن چکا ہے۔ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ذخائر کی منتقلی، معائنہ اور نگرانی کے طریقہ کار پر دونوں فریق عملی اتفاق کر پاتے ہیں یا نہیں۔

overseaspost.net

ادھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی IAEA کے سربراہ رافائیل ماریانو گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی ایران کی مکمل جوہری صلاحیتوں کی جانچ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے گی۔

مفاہمتی یادداشت اور متضاد بیانات

امریکی بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام سے متعلق کوئی حتمی معاہدہ شامل نہیں اور جوہری مذاکرات دستخط کے بعد 60 روزہ مدت کے دوران جاری رہیں گے۔

گزشتہ پیر کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کے انتظام، انہیں ملک سے باہر منتقل کرنے یا افزودگی کے مستقبل سے متعلق تمام باتیں فی الحال محض میڈیا قیاس آرائیاں ہیں۔

اس سے چند روز قبل ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے عسکری مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے زور دیا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ایک قومی اثاثہ اور ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے زراعت، ادویات سازی اور بجلی کی پیداوار میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسماعیل بقائی

رضائی نے واضح کیا کہ ایران اس معاملے میں خودمختار ہے اور نہ تو افزودہ مواد کسی کو دے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی شرط کو قبول کرے گا۔

تخمینوں کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 408 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے۔

افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ بنانے کی کوششیں

دوسری جانب سی این این نے امریکی انٹیلی جنس معلومات سے آگاہ 5 ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے اقدامات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے بعض سرنگوں کو بند کر دیا ہے اور ان کے داخلی راستوں کو بارودی سرنگوں سے محفوظ بنایا ہے، جس سے تقریباً نصف ٹن افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے۔

ایران کے پاس
تقریباً 408 کلوگرام
انتہائی افزودہ
یورینیم ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل تک ان ذخائر تک رسائی نسبتاً آسان تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی سطح پر ان مواد پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کا ذکر کر رہے تھے، لیکن اب صورتحال کافی پیچیدہ ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی نئی حفاظتی تدابیر نے اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ ایران سے افزودہ یورینیم ہٹانے اور اسے تلف کرنے پر کام کر رہی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق اب ان مواد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری، کھدائی کے خصوصی آلات اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو ایک خطرناک اور وقت طلب عمل ہوگا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ایران کو مستقبل میں یہ مؤقف اختیار کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے کہ ذخائر کا کچھ حصہ نکالنا ممکن نہیں رہا، جس سے کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔

افزودہ یورینیم کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان سب سے پیچیدہ اور متنازع نکات میں شمار ہوتا ہے، اور مذاکرات کے ہر دور میں دونوں فریق اس مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

ChatGPT Image 13 يونيو 2026، 01 27 48 م

گزشتہ بدھ کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے امریکا کی حمایت سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی مکمل تفصیلات فراہم کرے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو فوری رسائی دے۔

قرارداد کے مطابق ایران پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام جوہری مواد کے ذخائر سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرے اور ایجنسی کو بلا تاخیر ان کی تصدیق کا موقع دے۔