امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے میں افزودہ یورینیم کا معاملہ سب سے پیچیدہ اور حساس نکتہ بن گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے اور جوہری پروگرام محدود کرنے پر آمادہ ہے جبکہ ایرانی حکام اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق قرار دے رہے ہیں۔
اسی دوران انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنے یورینیم ذخائر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سرنگوں اور حفاظتی نظام کو مضبوط کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل تک ان ذخائر تک رسائی نسبتاً آسان تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی سطح پر ان مواد پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کا ذکر کر رہے تھے، لیکن اب صورتحال کافی پیچیدہ ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی نئی حفاظتی تدابیر نے اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ ایران سے افزودہ یورینیم ہٹانے اور اسے تلف کرنے پر کام کر رہی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق اب ان مواد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری، کھدائی کے خصوصی آلات اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو ایک خطرناک اور وقت طلب عمل ہوگا۔