جنیوا میں آئندہ اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کا قوی امکان ہے۔
مزید پڑھیں
بلومبرگ کے مطابق فریقین کے مابین یہ ایک عبوری معاہدہ ہوگا جس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
اس اہم سفارتی پیش رفت کے لیے لاجسٹک تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور 4 امریکی سی 17 طیارے ساز و سامان لے کر یورپ پہنچ چکے ہیں۔
اس تقریب میں امریکی نائب صدر کی شرکت کا امکان ہے جو گروپ سیون کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے 14 نکات پر مشتمل سخت شرائط پیش کی ہیں جن میں 300 ارب ڈالر کا تعمیراتی پیکیج شامل ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ سے ہوئے نقصانات کا مکمل ازالہ کریں۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کوئی نئی پابندی قبول نہیں کرے گا اور یورینیم افزودگی کا حق برقرار رکھے گا۔
مسودے کے مطابق ایران صرف جوہری ہتھیار نہ بنانے کی عالمی سطح پر یقین دہانی کرانے پر تیار ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران نے امریکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو سلطنت عمان کے ساتھ مل کر حل کرے گا۔
ایران 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور جہاز رانی کی بحالی کا خواہاں ہے۔
ایرانی مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
تہران نے اپنے پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔
ایران نے مذاکرات کے آغاز سے قبل 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے جس میں سے نصف رقم فوری چاہیے۔
تہران چاہتا ہے کہ 60 دن کے مذاکراتی عمل کے دوران امریکہ کوئی نئی پابندی عائد نہ کرے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی پہلی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھولنا اور جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔
امریکہ جوہری معاملے کو ایک طویل المدتی عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کی نگرانی ہوگی۔
امریکی مسودے میں 60 روز کے لیے تیل کی فروخت میں عارضی چھوٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایران کو معاشی ریلیف مل سکے۔
تاہم پابندیوں کا مستقل خاتمہ ایران کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد اور رویے سے مشروط ہوگا۔
منجمد اثاثوں کے حوالے سے امریکہ، ایران اور قطر کے درمیان ایک میکانزم پر بات چیت ہوئی ہے جس کے تحت رقوم صرف انسانی ہمدردی کے لیے استعمال ہوں گی۔
امریکہ بتدریج اثاثوں کی بحالی کو ایران کے مثبت رویے کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔
تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے گرد و نواح سے اپنی افواج کو واپس لے جائے اور ایران کی خودمختاری کا مکمل احترام کرے۔
ایرانی حکام اس حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کرانے پر بھی اصرار کر رہے ہیں۔