ایک ذریعے کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے کئی ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے، جنہیں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم آبی گزرگاہ بدستور کھلی ہوئی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے بندرگاہ سیریک اور جزیرہ قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات دیں۔
مقامی حکام کے مطابق ایرانی فورسز نے ان جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی جو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے اجازت لیے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری پابندی ختم کرنے کی شقیں شامل ہیں، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو بعد کے مذاکرات کے لیے مؤخر کیا جائے گا۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنیادی اہداف پورے کرتا ہے اور فریقین کو جامع سیاسی تصفیے کی جانب لے جا سکتا ہے۔
تاہم معاہدے سے متعلق لیک ہونے والی تفصیلات نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مجوزہ شقیں بڑی حد تک ایران کے مؤقف کے مطابق ہیں، جس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان رپورٹس کو ’غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق مسودہ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی فوری رہائی، ایرانی تیل کی برآمدات پر بعض پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر عائد رکاوٹوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس کے برعکس جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام سے متعلق حساس معاملات کو آئندہ 60 روزہ مذاکرات کے لیے مؤخر رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب ایک اور امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کرنا شامل ہوگا۔
ان کے مطابق ایران کو کسی بھی مالی رعایت یا پابندیوں میں نرمی اسی صورت ملے گی جب وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا اور آبنائے ہرمز مستقل طور پر کھلی رہے گی۔
معاہدے پر دستخط کے حوالے سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آئندہ چند روز میں اس دستاویز پر دستخط کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ابتدا میں جنیوا کو ممکنہ مقام قرار دیا جا رہا تھا، تاہم بعد میں اطلاعات سامنے آئیں کہ دستخط آن لائن بھی ہو سکتے ہیں جبکہ براہِ راست ملاقاتیں بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھی جا سکتی ہیں۔