براہ راست نشریات

اعلانِ اسلام آباد پر دستخط آن لائن ہوں گے، جنیوا مذاکرات مؤخر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران امن معاہدہ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اعلانِ اسلام آباد پر دستخط آن لائن کیے جا سکتے ہیں جبکہ جنیوا میں براہِ راست ملاقاتوں کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔
مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں نرمی اور بعد ازاں جوہری پروگرام پر مذاکرات شامل ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی اس بات پر پُرامید ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ کر دے۔ 

تاہم مجوزہ معاہدے کی تفصیلات اب بھی بحث کا موضوع ہیں کیونکہ تہران اور واشنگٹن کی جانب سے پیش کی جانے والی مختلف تشریحات میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔

جمعہ کو امریکا اور ایران نے عندیہ دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ 

ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق دونوں فریق ایک ابتدائی متن پر متفق ہو چکے ہیں اور آئندہ چند روز میں اس پر باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔

مزید پڑھیں

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ معاہدے کے متن میں مزید کچھ تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں، لیکن موجودہ مسودہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ایران اس جنگ سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے خلاف جنگ میں فاتح رہا ہے۔

دوسری جانب میدانِ عمل میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

 ایک ذریعے کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے کئی ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے، جنہیں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ 

امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم آبی گزرگاہ بدستور کھلی ہوئی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے بندرگاہ سیریک اور جزیرہ قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات دیں۔ 

مقامی حکام کے مطابق ایرانی فورسز نے ان جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی جو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے اجازت لیے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری پابندی ختم کرنے کی شقیں شامل ہیں، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو بعد کے مذاکرات کے لیے مؤخر کیا جائے گا۔

ایران جوہری پروگرام

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنیادی اہداف پورے کرتا ہے اور فریقین کو جامع سیاسی تصفیے کی جانب لے جا سکتا ہے۔

تاہم معاہدے سے متعلق لیک ہونے والی تفصیلات نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ 

مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مجوزہ شقیں بڑی حد تک ایران کے مؤقف کے مطابق ہیں، جس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان رپورٹس کو ’غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق مسودہ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی فوری رہائی، ایرانی تیل کی برآمدات پر بعض پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر عائد رکاوٹوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ 

اس کے برعکس جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام سے متعلق حساس معاملات کو آئندہ 60 روزہ مذاکرات کے لیے مؤخر رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب ایک اور امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کرنا شامل ہوگا۔ 

ان کے مطابق ایران کو کسی بھی مالی رعایت یا پابندیوں میں نرمی اسی صورت ملے گی جب وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا اور آبنائے ہرمز مستقل طور پر کھلی رہے گی۔

ایران امریکا معاہدہ

معاہدے پر دستخط کے حوالے سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آئندہ چند روز میں اس دستاویز پر دستخط کر سکتے ہیں۔ 

اگرچہ ابتدا میں جنیوا کو ممکنہ مقام قرار دیا جا رہا تھا، تاہم بعد میں اطلاعات سامنے آئیں کہ دستخط آن لائن بھی ہو سکتے ہیں جبکہ براہِ راست ملاقاتیں بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھی جا سکتی ہیں۔

پاکستان مذاکراتی
عمل میں اہم
ثالثی کردار
ادا کر رہا ہے

العربیہ کو ذرائع نے بتایا کہ اعلانِ اسلام آباد پر ابتدائی دستخط آن لائن سے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ بعد میں پاکستانی دارالحکومت میں تکنیکی اور عملی معاملات پر مزید اجلاس منعقد ہوں گے۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’امن آج جتنا قریب ہے، پہلے کبھی نہیں تھا‘۔
واشنگٹن میں ایک سینئر امریکی عہدیدار نے معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی حتمی مرحلہ باقی ہے، تاہم فریقین منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
اگرچہ اسرائیل نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا، لیکن اب تک اسے مذاکراتی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اس مفاہمتی یادداشت کا فریق نہیں ہوگا۔
28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، علاقائی استحکام متاثر ہوا اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا۔ اگرچہ 8 اپریل کو جنگ بندی طے پا گئی تھی، تاہم اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے جھڑپیں، فضائی حملے اور میزائل کارروائیاں جاری رہیں۔

معاشی سطح پر ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی منڈیوں کو مثبت اشارہ دیا۔
عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں، کیونکہ سرمایہ کار خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی امید لگا رہے ہیں۔