امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی نے ایران کے ساتھ متوقع معاہدے کے عمل کو متاثر کیا، تاہم معاہدہ اب بھی چند گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا، جبکہ پاکستان اور قطر مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملے پر اپنی شدید ناراضی سے آگاہ کیا ہے۔
ان کے مطابق اس کارروائی نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو متاثر کیا اور متوقع معاہدے کے عمل میں تاخیر پیدا کی، تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ معاہدے پر دستخط آئندہ چند گھنٹوں میں ہو جائیں گے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو واضح طور پر بتایا کہ وہ اس فوجی کارروائی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل نے ایسے وقت میں حملہ کیوں کیا جب صورتحال نسبتاً محدود نوعیت کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے ہونے والی کارروائی میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود اسرائیل نے بیروت میں بڑا حملہ کر دیا، جس پر انہیں شدید غصہ آیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قیادت نے مناسب فیصلہ
سازی کا مظاہرہ نہیں کیا اور انہوں نے یہ مؤقف براہِ راست نیتن یاہو تک پہنچایا۔
ایران کے ساتھ متوقع معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یہ سمجھوتہ دراصل اسرائیل کے مفاد میں ہوگا، کیونکہ اس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے گا، مشتبہ تنصیبات پر سخت نگرانی اور فوری معائنوں کا نظام نافذ ہوگا، جبکہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مسئلے کو بھی حل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط اتوار کی صبح متوقع تھے، مگر بیروت پر اسرائیلی حملے نے پورے عمل کو سست کر دیا۔
اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ اب بھی قریب ہے اور جلد طے پا سکتا ہے۔
فوکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے مزید انکشاف کیا کہ ابتدائی دستخط الیکٹرانک طریقے سے ہوں گے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر یورپ میں باقاعدہ تقریب کے دوران حاضری میں دستخط کیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ہوتے ہی ایران پر عائد محاصرہ نرم کرنے کے اقدامات شروع کر دیے جائیں گے۔
ادھر مذاکراتی عمل سے باخبر ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ثالثی کرنے والے فریق معاہدے کی تکمیل کے قریب ہونے پر پُرامید ہیں۔
بیروت حملہ، ایران معاہدہ اور سفارتی کشمکش
10 اہم نکات ایک نظر میں
📞 ٹرمپ کا سخت پیغام
ٹرمپ نے بیروت حملے پر نیتن یاہو کو شدید ناراضی کا پیغام دیا۔
⚠️ معاہدے کو نقصان
امریکی صدر کے مطابق اسرائیلی حملہ مذاکراتی عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
🤝 معاہدہ قریب
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران سے معاہدہ آئندہ چند گھنٹوں میں طے پا سکتا ہے۔
🖊️ دستخط کا طریقہ
ابتدائی دستخط الیکٹرانک جبکہ باضابطہ تقریب یورپ میں متوقع ہے۔
🇮🇷 ایرانی مؤقف
تہران کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
🗣️ قالیباف کا الزام
محمد باقر قالیباف نے امریکا پر وعدوں کی عدم پاسداری کا الزام لگایا۔
🇶🇦 قطر کا کردار
قطر مذاکراتی عمل میں اہم سفارتی ثالث کے طور پر سرگرم ہے۔
🇵🇰 پاکستان کی ثالثی
اسلام آباد دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں اور مفاہمت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
💥 مذاکرات کو خطرہ
اسرائیلی حملوں سے سفارتی ماحول متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
🇷🇺 روس کو آگاہی
صدر ولادیمیر پوتین کو بھی معاہدے کی پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس دوران العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی کہ ایک قطری وفد اسلام آباد روانہ ہو رہا ہے، جبکہ ایک اور قطری وفد تہران پہنچ کر مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایک روز قبل امید ظاہر کی تھی کہ معاہدے پر آج دستخط ہو جائیں گے، تاہم ایران کی جانب سے ابھی تک دستخط کے وقت کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
پاکستان اور قطر گزشتہ کئی ماہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایک ایرانی ذریعے نے واضح کیا کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ اس کے مطابق اسرائیلی حملے سے قبل ایران قطر کے ذریعے امریکا کو پیغامات بھیج رہا تھا، مگر تاحال مکمل اتفاقِ رائے حاصل نہیں ہو سکا۔
ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی اسرائیلی حملے کے بعد امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن یا تو اپنے وعدے پورے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا ان پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا بے معنی ہو جائے گا۔
ایران بدستور اس مؤقف پر قائم ہے کہ کسی بھی جنگ بندی یا معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایک ہفتے کے اندر دوسری بار بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ سخت ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو آگاہ کیا ہے کہ ایران سے متعلق معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔
اوشاکوف کے مطابق پوتین نے خطے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے پوتین کے ساتھ گفتگو میں یوکرین جنگ کے خاتمے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اس حوالے سے تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔