امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت ’ایم او یو‘ پر دستخط کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جبکہ پاکستان، قطر، امریکا اور ایران کے مختلف بیانات نے معاہدے کے قریب ہونے کا تاثر دیا ہے۔
تاہم دستخط کی تاریخ، مقام اور طریقۂ کار کے حوالے سے اب بھی بعض ابہامات موجود ہیں۔
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔
اس پیش رفت نے اس امید کو تقویت دی ہے کہ دونوں ممالک ایک ایسے سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک پر متفق ہونے کے قریب ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے جاری بحران کے خاتمے اور تعلقات میں نئی پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت ’ایم او یو‘ پر کل اتوار کو دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق زیرِ غور دستاویز کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ’مفاہمتی یادداشت‘ یا عارضی سیاسی فریم ورک ہے، جس کا مقصد موجودہ بحران کو قابو میں لانا اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت دیگر سکیورٹی معاملات پر جامع مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ فریم ورک مستقبل کے وسیع تر مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہ مذاکرات اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے عسکری اور سفارتی کشیدگی جاری رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے اثرات نے خطے اور دنیا بھر کی توجہ
ان مذاکرات پر مرکوز کر دی ہے۔
دستخط کی متوقع تاریخ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر کل اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مناسب وقت پر اور حالات معمول پر آنے کے بعد ہم جوہری گرد و غبار کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔
ان کے بقول اگر معاملات خوش اسلوبی سے طے نہ ہوئے تو امریکا کے پاس متبادل آپشن بھی موجود ہے۔
ٹرمپ: معاہدہ قریب، ہرمز فوری کھلے گا
ایران نے فوری دستخط کی تردید کر دی، پاکستان کی ثالثی اور تکنیکی مذاکرات پر نظریں مرکوز
امریکا
ٹرمپ کا دعویٰ: معاہدہ جلد طے ہوگا
ایران
فوری دستخط کی تاریخ طے نہیں
پاکستان
ثالثی اور ای دستخط میں معاونت
آبنائے ہرمز
عالمی تجارت کے لیے کلیدی راستہ
📌 اہم نکات
🔍 متضاد بیانات
ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے اور دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی۔
ایران کا جواب
ایرانی وزارت خارجہ نے فوری دستخط کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حتمی تاریخ طے نہیں، تاہم آنے والے دنوں میں پیش رفت ممکن ہے۔
پاکستان کا کردار
پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط اور تکنیکی مذاکرات کے مرحلے میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
📌 خلاصہ
امریکا معاہدے کو قریب قرار دے رہا ہے، ایران محتاط ہے، جبکہ پاکستان ثالثی کے اہم کردار میں موجود ہے۔ اگر پیش رفت ہوئی تو آبنائے ہرمز، توانائی منڈیوں اور عالمی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی خریدے گا۔
انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے قریب لے جاتا تھا جبکہ ان کا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
پاکستان میں الیکٹرانک تقریب
دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسلام آباد میں کل امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی ایک الیکٹرانک تقریب ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کی جائے گی۔
الجزیرہ کے اسلام آباد میں بیورو چیف عبدالرحمن مطر نے ایک باخبر پاکستانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر ابتدائی مرحلے میں صرف الیکٹرانک دستخط ہوں گے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔
حتمی معاہدے کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ایران کا محتاط مؤقف
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، تاہم انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ یہ عمل آئندہ چند روز میں مکمل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دستخط کی تاریخ کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ دوسرے فریق کے مؤقف میں بار بار تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
بقائی کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد اس مرحلے میں صرف جنگ کا خاتمہ ہے اور جوہری پروگرام اس کا حصہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سابقہ تجربات کی روشنی میں فی الحال صرف تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ بندی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ امریکا کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی فریم ورک ہے جو اہم اختلافی نکات اور جنگ کے خاتمے کے اصولوں کا تعین کرتا ہے۔
اسی دوران ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے سوال اٹھایا کہ جب ایرانی حکام واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے تو امریکی صدر اتوار کو دستخط پر اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔
قطر اور پاکستان کے درمیان رابطہ
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی کا ٹیلی فون موصول ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستانی بیان کے مطابق شہباز شریف نے قطری قیادت کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران جلد امن معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں، تاہم کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
پاکستان کا دعویٰ
شہباز شریف نے قبل ازیں کہا تھا کہ ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں اور اس کے آئندہ 24 گھنٹوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق امریکا اور ایران امن معاہدے کے حتمی متن پر متفق ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک نے ایک ایسے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جو مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانک دستخط کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی مذاکرات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگا۔
امریکی مؤقف
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط معاہدہ ہونے جا رہا ہے اور پاکستانی بیانات بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھولنا معاہدے کی بنیادی شرط ہے، جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری محاصرہ بھی اسی وقت ختم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بعد سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے وسیع آپریشن شروع کیا جائے گا، جس میں امریکا، برطانیہ اور فرانس بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
جوہری پروگرام پر
بعد میں
الگ مذاکرات
کیے جائیں گے
مجوزہ نکات اور متضاد اطلاعات
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف دستخط کر سکتے ہیں، جبکہ جنیوا ممکنہ مقام قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسودے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی، تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہے، جبکہ جوہری پروگرام پر 60 روزہ مذاکرات کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
تاہم ایک امریکی عہدیدار نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس وقت تک کوئی مالی رعایت نہیں دی جائے گی جب تک وہ معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد نہ کرے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم آبی گذرگاہ ہے۔
بلومبرگ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ممکنہ معاہدے کے بعد تقریباً ایک ماہ کے اندر وہاں جہاز رانی کو معمول پر لانے کی کوشش کریں گے، تاہم سمندر میں بارودی سرنگوں کی موجودگی ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ایرانی مؤقف میں تضاد
ایرانی ذرائع ابلاغ میں بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
بعض قدامت پسند حلقے مجوزہ معاہدے کو ایران کی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جبکہ سرکاری ادارے زیادہ محتاط زبان استعمال کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صرف اتنا کہا کہ معاہدے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
سرکاری ایرانی ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ امریکا نے 47 سال بعد پہلی مرتبہ ایران کی خودمختاری کا احترام کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے کنٹرول میں ہے اور 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی سمیت مختلف معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
امریکا کی اگلی ترجیح
امریکی مؤقف کے مطابق آئندہ مرحلہ بنیادی طور پر پابندیوں اور جوہری پروگرام سے متعلق ہوگا۔
واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام، افزودگی کی سرگرمیوں اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے حوالے سے مزید اقدامات کرے، جس کے بعد ہی وسیع پیمانے پر پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکے گی۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری مراکز کو ختم کرے، افزودگی بند کرے اور مسلح گروہوں کی مالی معاونت روک دے تو اس کے بدلے میں اسے بڑے پیمانے پر اقتصادی فوائد اور پابندیوں میں نرمی مل سکتی ہے، جس سے ایرانی معیشت کو نمایاں سہارا ملے گا۔