امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ کے کشیدہ مذاکرات اور علاقائی ثالثی کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور سفارتی عمل کے نئے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تکمیل کی تصدیق کرتے ہوئے ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن اور تہران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 14, 2026
ان کے مطابق آنے والے دنوں میں ثالث ممالک کی نگرانی میں متعدد ابتدائی اجلاس منعقد ہوں گے تاکہ معاہدے کے نفاذ کے لیے ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ پیش رفت کئی ماہ پر محیط مذاکرات اور علاقائی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جن میں پاکستان اور قطر نے اہم کردار ادا کیا جبکہ متعدد دیگر ممالک نے بھی تعاون فراہم کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ نیا معاہدہ ان کی انتظامیہ کے بنیادی ہدف، یعنی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے، کو یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی اضافی فیس کے کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
JUST NOW: President confirmed that the incoming memorandum of understanding will permanently cement his primary wartime objective, declaring with total certainty that "Iran will never have a Nuclear weapon."
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) June 14, 2026
President trump used combination of financial chokeholds and heavy… pic.twitter.com/ZDRXTvAm5a
ٹرمپ کے مطابق مفاہمتی یادداشت ایران کے اس مستقل عہد کو قانونی شکل دے گی کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی اقتصادی پابندیوں اور فوجی دباؤ نے مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان اعلانات کے ساتھ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وائٹ ہاؤس پہنچے، جہاں بعد ازاں انہوں نے تصدیق کی کہ وہ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے جنیوا جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ذاتی شرکت کا فیصلہ سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں پر منحصر ہوگا۔
شہباز شریف نے معاہدے کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے قطر، سعودی عرب اور ترکی کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں فنی اور تکنیکی اجلاس منعقد ہوں گے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے جنگ کے خاتمے اور امریکا کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ 60 دنوں کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے تاکہ ایک جامع اور حتمی معاہدہ طے کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ثالث ممالک آئندہ مذاکراتی عمل میں بھی شریک رہیں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے اطلاع دی ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل جلد ہی امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق باضابطہ بیان جاری کرے گی۔
ایجنسی کے مطابق خلیج میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایران اور سلطنت عمان کے درمیان بھی تعاون پر اتفاق ہوا ہے تاکہ اہم سمندری راستوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے اور عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ امریکا کے ساتھ جنگ اور تمام فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان، جس میں لبنان کا محاذ بھی شامل ہے، آج رات سے نافذ العمل ہو جائے گا۔
اسے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت پر عملی عملدرآمد کا پہلا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل خطے میں شدید کشیدگی دیکھی گئی تھی۔
اس دوران ایران کے اندر امریکی حملے، دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مذاکراتی عمل کو خطرات سے دوچار کر دیا تھا، تاہم علاقائی اور بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں نے بالآخر فریقین کو ایک سیاسی حل کی جانب لے جانے میں کامیابی حاصل کی۔
اگرچہ معاہدے کے طے پانے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، تاہم اس کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
خاص طور پر ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور جنگ بندی کی ضمانتوں سے متعلق نکات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
تاہم تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد سے بیک وقت سامنے آنے والے اعلانات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ معاہدہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ عالمی برادری اس کے خطے کی سلامتی اور امریکا ایران تعلقات پر ممکنہ اثرات کا انتظار کر رہی ہے۔