براہ راست نشریات

ایران امریکہ معاہدے کے باوجود ہرمز بحالی میں ہفتوں کیوں لگیں گے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جدید سرنگیں زیادہ حساس اور چھپانے کے قابل ہو گئی ہیں، اس لیے انہیں ہٹانا بھی زیادہ مشکل ہے (فوٹو: الجزیرہ)

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حالیہ ایران امریکہ معاہدے نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک امید کی لہر پیدا کی ہے، لیکن زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔

مزید پڑھیں

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

تاہم ماہرین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ پر بحری نقل و حمل کی مکمل اور محفوظ بحالی کے لیے سیاسی اعلانات سے ہٹ کر کئی ہفتوں پر محیط تکنیکی اور سیکیورٹی اقدامات درکار ہوں گے۔

بارودی سرنگوں کے چیلنجز

آبنائے ہرمز کی بحالی میں سب سے بڑا خطرہ وہاں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 5 ہزار بحری بارودی سرنگوں کا ذخیرہ موجود ہے، جن میں سادہ تیرتی ہوئی سرنگوں سے لے کر جدید سینسر سے لیس تہہ نشین  سرنگیں شامل ہیں۔ 

ان سرنگوں کی تنصیب نے انہیں تلاش کرنے اور ناکارہ بنانے کے عمل کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ 

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ اب وسیع پیمانے پر فضائی، سطحی اور زیرِ آب آپریشنز کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ان ممکنہ بارودی سرنگوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

mines in hormuz
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے گزرنے کی ایک ڈرون تصویر (فوٹو: رائٹرز)

جدید ٹیکنالوجی اور پیچیدہ آپریشنز

امریکی بحریہ نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے روایتی ایونجر کلاس مائن سویپر (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) کی جگہ ساحلی جنگی جہازوں اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

یہ ڈرونز براہ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 

رینڈ کارپوریشن کے ماہر اور سابق امریکی بحری انجینئر اسکاٹ سیویٹز کے مطابق یہ کام انتہائی صبر آزما ہے، کیونکہ سمندر کی تہہ میں موجود پتھریلی چٹانوں، ملبے اور دہائیوں پرانے کچرے کے درمیان بارودی سرنگوں کی شناخت کرنا ایک بڑی تکنیکی چیلنج ہے۔ 

مزید برآں جدید سرنگوں میں ’شپ کاؤنٹرز‘ لگے ہوتے ہیں، جو مخصوص تعداد میں جہاز گزرنے کے بعد دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ سرنگیں سونو سسٹم کی آواز سن کر خود کو مزید گہرائی میں لے جاتی ہیں تاکہ کٹنگ چینز سے بچ سکیں۔

mines in hormuz3
عالمی آئل ٹینکر آپریٹرز کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل تک بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع نہیں کریں گے (فوٹو: الجزیرہ)

جہاز رانی کمپنیوں کا ’ویٹ اینڈ واچ‘ رویہ

ایران امریکہ سیاسی معاہدے کے باوجود تجارتی اور معاشی خدشات بدستور برقرار ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی آئل ٹینکر آپریٹر کمپنی ’مٹسوئی او ایس کے لائنز‘ کے سی ای او جوتارو تامورا نے واضح کیا ہے کہ شپنگ مالکان کم از کم چند ہفتوں تک ہرمز سے گزرنے میں احتیاط برتیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیاں محض سیاسی بیانات پر انحصار کرنے کے بجائے اس بات کی ٹھوس ضمانت چاہتی ہیں کہ یہ معاہدہ زمینی حقیقت بن چکا ہے۔ 

اس دوران انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن  بھی خطرات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ 100 دن سے زائد عرصے سے خلیج میں پھنسے عملے کے سیکڑوں افراد کے لیے محفوظ راستے قائم کیے جا سکیں۔

آبنائے ہرمز بحران ایرانی بارودی سرنگیں توانائی سپلائی
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا تخلیقاتی عکس (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی توانائی پر اثرات

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کی وہ اہم شریان ہے جہاں سے دنیا کی توانائی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس میں خام تیل کے علاوہ گیس، اناج اور دیگر بنیادی اشیاء کی نقل و حمل بھی شامل ہے۔

یہاں کسی بھی قسم کی جلد بازی یا ناقص سیکیورٹی اقدامات عالمی تجارت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات یہ بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا صرف سیاسی مفاہمت پر منحصر نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور محتاط ’ڈی مائننگ‘ (بارودی سرنگوں کی صفائی کے) آپریشن کا متقاضی ہے۔ 

عالمی بحری قوتوں، شپنگ کمپنیوں اور انشورنس فراہم کنندگان کے درمیان گہرے روابط  اور ہم آہنگی کے بغیر اس اہم گزرگاہ پر اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔ 

چنانچہ آبنائے ہرمز کی مکمل فعالیت کا انحصار ان ہی زمینی آپریشنز پر ہے اور اس عمل میں متوقع ہفتوں کی تاخیر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنوں کو بحال کرنا سیاسی نعروں سے کہیں زیادہ ایک تکنیکی اور عسکری چیلنج ہے۔