واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری سفارتی تعطل نے عالمی منظرنامے کو غیریقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
جنگ بندی کے خاتمے کی قریب آتی تاریخ نے امن مذاکرات کے دوسرے دور کی کامیابی کو مشکوک بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔
امن یا تصادم
حالات اشارہ کررہے ہیں، یا تو شدید دباؤ کے تحت کوئی پیچیدہ معاہدہ طے پائے گا یا پھر خطہ ایک نئی فوجی کشمکش کی جانب بڑھے گا۔
یہی وجہ ہے کہ سفارتی سطح پر گہری خاموشی اور ابہام نے کسی بھی واضح پیش رفت کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔
سفارتی منظرنامے پر چھایا امن کا دھندلکا
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اس صورتحال کو امن کا دھندلکا قرار دیا ہے۔
اخبار کے مطابق امریکا اور ایران کے مابین نہ تو کوئی باقاعدہ مذاکرات کی میز سجی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی یا نہیں۔ دونوں فریقین اپنے مفادات کے تحفظ کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
گہرے تضادات اور پیچیدہ فائلیں
ایران فوجی کارروائی اور معاشی دباؤ کے خطرات سے بخوبی آگاہ ہے، جبکہ امریکا آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے بحران سے پریشان ہے۔
جوہری پروگرام، پابندیاں، علاقائی اثر و رسوخ اور اسرائیل کی سیکیورٹی جیسے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان خلیج بدستور برقرار اور بہت گہری ہے۔
آبنائے ہرمز: ایک مستقل رکاوٹ
تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری افزودگی میں عارضی جمود جیسے معمولی معاملات پر پیش رفت ممکن نظر آتی ہے، لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مسئلہ ایک ایسی بنیادی رکاوٹ ہے جس کا حل فی الحال نظر نہیں آتا۔
دونوں فریق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حریف کو جھکانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
داخلی دباؤ اور علاقائی اثرات
ایران میں سخت گیر حلقوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ سمجھوتے کی راہ میں حائل ہے۔
اُدھر امریکا میں فوجی طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کا کردار بھی حالات کو غیر متوقع موڑ دے سکتا ہے، جو سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
جمود اور نازک موڑ
انڈیپنڈنٹ کے مطابق اگرچہ امن کی سفارتی راہیں مکمل بند نہیں ہوئیں، مگر وہ ایک انتہائی باریک دھاگے سے لٹکی ہوئی ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کے بعد کسی بڑے فوجی تصادم کا خدشہ تھا، تاہم حالات تاحال ایک کمزور جمود کا شکار ہیں جو نہ تو حل کی طرف بڑھ رہے ہیں نہ مکمل تصادم کی طرف۔
مستقبل کے امکانات: طویل کشمکش
یہ بحران بنیادی تنازعات حل نہ ہونے کی وجہ سے فوری خاتمے کے بجائے ایک طویل شطرنج کے کھیل میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سفارتی بات چیت اور فوجی کشیدگی کے ادوار کا تسلسل جاری رہنے کا قوی امکان نظر آ رہاہے، کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان بالکل واضح ہے، جو کسی بھی فوری معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری یہ کشمکش صرف ایک عارضی بحران نہیں بلکہ گہرے تزویراتی مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
جب تک جوہری پروگرام، علاقائی سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز جیسے بنیادی معاملات پر کوئی ٹھوس سمجھوتا نہیں ہوتا، تب تک خطے میں امن کی امیدیں ایک دھندلے خواب جیسی ہی رہیں گی۔