براہ راست نشریات

کلمہ توحید کا احترام: فیفا نے سعودی پرچم کے لیے پروٹوکول بدل دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی پرچم ورلڈ کپ 2026

سعودی عرب اور یوراگوئے کے درمیان ورلڈ کپ 2026 کے میچ سے قبل غیر معمولی پروٹوکول منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی۔
فیفا نے سعودی فٹبال فیڈریشن کی درخواست پر سعودی پرچم کو میدان کی گھاس پر بچھانے کے بجائے پورے وقت بلند رکھا، تاکہ پرچم پر درج کلمۂ توحید کی حرمت برقرار رہے۔
اس اقدام کو سوشل میڈیا پر زبردست پذیرائی ملی اور اسے ٹورنامنٹ کے خوبصورت ترین لمحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ورلڈ کپ 2026 میں سعودی عرب اور یوراگوئے کے درمیان گروپ H کے افتتاحی میچ کے دوران سعودی پرچم سے متعلق ایک غیر معمولی پروٹوکول اقدام نے سوشل میڈیا پر شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی پرچم، جس کے وسط میں کلمۂ توحید درج ہے، افتتاحی تقریب کے دوران میامی اسٹیڈیم کی گھاس پر نہیں بچھایا گیا۔ 

ورلڈ کپ 2026 میں یہ غیر معمولی اقدام تھا، جسے مسلمانوں کے نزدیک سعودی پرچم کی مذہبی اہمیت کے احترام کے طور پر دیکھا گیا۔

مزید پڑھیں

میچوں کے آغاز سے قبل ہونے والی روایتی تقریب میں عموماً ٹیموں کے پرچم میدان کی گھاس پر پھیلائے جاتے ہیں، تاہم اس مرتبہ سعودی پرچم پورے وقت بلند رکھا گیا اور اسے زمین سے نہیں لگنے دیا گیا۔ 

تقریب میں منظر کی یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے یوراگوئے کا پرچم بھی اسی انداز میں بلند رکھا گیا۔

سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیفا نے سعودی فٹبال فیڈریشن

 کی جانب سے پیش کی گئی درخواست پر خصوصی استثنا منظور کیا، جس کے تحت سعودی پرچم کو دیگر ممالک کے پرچموں کی طرح میدان کی سطح پر رکھنے کے بجائے بلند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ChatGPT Image 16 يونيو 2026، 08 46 38 م

اس اقدام کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ 

متعدد صارفین نے کلمۂ توحید پر مشتمل سعودی پرچم کے احترام پر فیفا کی تعریف کی اور اس منظر کو ورلڈ کپ کا خوبصورت ترین لمحہ قرار دیا۔

بعض صارفین نے اسے ایک تاریخی منظر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی پرچم کو زمین پر رکھنے کے بجائے بلند رکھنا دراصل کلمہ توحید کے احترام کا اظہار ہے، جو سعودی قومی پرچم کا بنیادی جزو ہے۔

ChatGPT Image 16 يونيو 2026، 08 46 43 م

کئی تبصرہ نگاروں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ لمحہ لفظِ جلالہ ’اللہ‘ کے احترام اور مذہبی حساسیت کے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ ٹورنامنٹ کے بعض انتظامی پہلوؤں پر تنقید بھی کی جا رہی تھی۔

یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر بھی موضوعِ بحث بنا، جہاں غیر عرب میڈیا پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے اسلامی روایات کے احترام کی مثال قرار دیا، خصوصاً اس حوالے سے کہ کلمۂ توحید پر مشتمل عبارت کو زمین سے نہ لگنے دینا مسلمانوں کے نزدیک خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔