سعودی واٹر اتھارٹی نے عالمی سطح پر ایک نئی کامیابی حاصل کرتے ہوئے گینیز ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنا لی ہے، جب ينبع کے پیداواری نظام کے تحت ایک موبائل پلانٹ نے دنیا میں توانائی کے سب سے کم استعمال کا ریکارڈ قائم کیا، جو 1.55 کلو واٹ فی مکعب میٹر رہا۔
یہ کامیابی پانی کی پیداوار میں کارکردگی کے تصور میں ایک معیاری تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جو محض آپریشنل بہتری سے آگے بڑھ کر ڈی سیلینیشن ’نمکین پانی کو قابلِ استعمال بنانے‘ کے شعبے میں کارکردگی کے نئے پیمانے متعین کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق گینیز میں سعودی شمولیت ایک طویل تحقیقی، انجینئرنگ اور آپریشنل سفر کے بعد ممکن ہوئی، جس کا مقصد ڈی سیلینیشن انڈسٹری کے ایک پیچیدہ ترین چیلنج—توانائی کے استعمال میں کمی—کو حل کرنا تھا، بغیر اس کے کہ نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی یا پانی کے معیار پر کوئی اثر پڑے۔
توانائی کے استعمال کو 1.7 کلو واٹ سے کم کر کے 1.5 کلو واٹ تک لایا
گیا، اور جدید ریورس اوسموسس ٹیکنالوجی اور آپریشنل انجینئرنگ میں باریک بہتریوں کے امتزاج سے ایک بے مثال کارکردگی حاصل کی گئی، جسے گینیز کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
یہ موبائل پلانٹ روزانہ 20 ہزار مکعب میٹر پانی پیدا کرتا ہے، جبکہ اس کا رقبہ 3000 مربع میٹر سے زیادہ نہیں، جو جگہ کے مؤثر استعمال، اثاثوں کی قدر میں اضافے اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کی پیداواری صلاحیت میں بہتری کی واضح مثال ہے، ایک زیادہ ذہین اور پائیدار ماڈل کے تحت۔
یہ پلانٹ محض عارضی حل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ماڈل ہے، جسے ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور جدید فلٹریشن سسٹمز کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، تاکہ اسے مختلف ماحول میں دہرایا اور وسعت دی جا سکے۔
یہ کامیابی مملکت کی حیثیت کو نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے ڈی سیلینیٹڈ پانی کے پروڈیوسر کے طور پر مزید مستحکم کرتی ہے، بلکہ اسے اس شعبے کے مستقبل میں معیاری تبدیلی کی قیادت کرنے والی قوت کے طور پر بھی نمایاں کرتی ہے جہاں قومی صلاحیتیں ترقی کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔