فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی کوریا اور چیک جمہوریہ کے درمیان کھیلے گئے میچ میں تماشائیوں کی تعداد پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق فیفا نے 44 ہزار 985 تماشائیوں کی موجودگی کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے جو اسٹیڈیم کی کل گنجائش کے تقریباً برابر ہے۔
میکسیکو کے شہر گواڈالاجارا کے اسٹیڈیم میں، جس کی کل گنجائش تقریباً 46 ہزار نشستیں ہے، میچ کے دوران کئی اسٹینڈز واضح طور پر خالی نظر آئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے فیفا کے آفیشل
اعداد و شمار کی شفافیت اور ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان ازٹیکا اسٹیڈیم تماشائیوں سے مکمل بھرا ہوا تھا۔
تاہم دیگر میچوں میں خالی نشستوں کے باوجود گنجائش کے قریب اعداد و شمار ظاہر کرنے سے شائقین میں سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ اعداد و شمار درست ہیں۔
ناقدین کا خیال ہے کہ 48 ٹیموں پر مشتمل تاریخ کے اس سب سے بڑے ورلڈ کپ کو کامیاب ثابت کرنے کے لیے فیفا شاید اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
اس حکمت عملی کا مقصد عالمی سطح پر ٹورنامنٹ کی مقبولیت اور بہترین تنظیم کاری کا تاثر دینا ہے۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی بتایا جا رہا ہے۔
شائقین کے مطابق قطر میں منعقدہ 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں اس بار قیمتیں بہت زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے عام تماشائیوں کے لیے اسٹیڈیم جا کر میچ دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے ٹکٹوں کی قیمتوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی سطح کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے معیار کے مطابق ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس بار ٹکٹوں کی طلب توقعات سے کہیں زیادہ اور ٹورنامنٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
یورپی شائقین کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے نے طلب اور تماشائیوں کی شرکت کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار اور گراؤنڈ کی اصل صورتحال میں فرق نے اس میگا ایونٹ کی شفافیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔