ایک سینئر امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے خاتمے کے علاوہ سخت نگرانی کے نظام کو قبول کر لیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پانے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، تاہم حتمی دستخط ابھی باقی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مجوزہ امریکی، ایرانی معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے جن شقوں کا ذکر کیا ہے ان کا اصل تحریری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کے روز ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے لیک کی گئی معلومات حقیقت کے منافی ہیں اور ان کا مذاکرات میں زیر غور نکات سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے ایرانی حکام پر بددیانتی اور غیر سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معاہدہ چاہتے ہیں تو انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات شائع کیں، جس میں جنگ بندی، جوہری مذاکرات کے لیے 60 روزہ مہلت، امریکی پابندیوں کے خاتمے اور 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے نکات شامل تھے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب ایران نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنی عملداری سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے بنیادی حقوق، خصوصاً یورینیم افزودگی کے حق، سے پیچھے ہٹے گا۔
تہران کا کہنا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ان نکات کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔
ادھر امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ معاہدہ ’کارکردگی کی بنیاد‘ پر ہوگا، یعنی ایران کو اس وقت تک نہ منجمد اثاثوں تک رسائی ملے گی اور نہ ہی پابندیوں میں نرمی، جب تک وہ اپنے وعدوں پر عملی طور پر عملدرآمد نہیں کرتا۔
امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو تلف یا ملک سے باہر منتقل کرنا اور سخت بین الاقوامی نگرانی کا نظام نافذ کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کی جانب سے مسلح گروہوں کی مالی معاونت روکنے کی شرائط بھی معاہدے کا حصہ ہیں۔
واشنگٹن نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کو معاشی فوائد اور منجمد اثاثوں تک رسائی مرحلہ وار دی جائے گی، لیکن یہ تمام مراعات تہران کی جانب سے عملی اقدامات سے مشروط ہوں گی۔
اگرچہ ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور آئندہ چند روز میں ابتدائی معاہدے پر دستخط کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق مجوزہ سمجھوتہ صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات لبنان، خلیجی ممالک اور اسرائیل سمیت پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔