اہم خبریں
12 June, 2026
--:--:--

ایران جنگ کے خاتمے کا اعلان، ہرمز کھولنے کی ڈیل دو دن میں متوقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور ایک ’عظیم تصفیے‘ تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر آئندہ دو دن میں دستخط ہو سکتے ہیں اور اس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
تاہم ایران نے کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ اطلاعات ہیں کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی سے اہم اختلافات کم ہو گئے ہیں۔

گزشتہ چند گھنٹوں میں اصل نئی بات یہ نہیں تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر ’شدید طاقت‘ سے حملے کی اپنی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے، بلکہ حیران کن پیش رفت یہ تھی کہ انہوں نے واضح الفاظ میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ایک ’عظیم تصفیے‘ کی بات کی۔

 ٹرمپ نے کہا کہ اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط آئندہ دو دن کے اندر ہو سکتے ہیں، اور غالب امکان ہے کہ یہ یورپ میں انجام پائے۔

العربیہ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے پس منظر اور تفصیلات ماضی کے کئی ایسے مواقع سے مختلف نہیں تھیں، جب کشیدگی اور جنگی خدشات اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد اچانک نمایاں طور پر کم ہو گئے تھے۔ 

مزید پڑھیں

انہوں نے اشارہ دیا کہ ممکنہ معاہدے کے حتمی نکات اور بنیادی تصورات کو تمام متعلقہ فریقوں، بشمول امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، کی منظوری ہو چکی ہے۔ 

ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔

دوسری جانب تہران نے ایسے کسی معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک کسی معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا اور اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں۔

ChatGPT Image 12 يونيو 2026، 12 11 18 م

تاہم بعد ازاں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے ’ایران کی تجویز کردہ دستاویز‘ کو قبول کر لیا ہے، جس کے بعد ایرانی نظام کو معاہدے پر دوبارہ غور اور نظرثانی کا موقع مل گیا ہے، جیسا کہ امریکی خبر رساں ادارے اکسیوس نے رپورٹ کیا۔

بقائی نے بتایا کہ قطر اور پاکستان ثالثی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات سفارتی عمل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی صورتحال ایران کے لیے واضح تھی اور معاہدے کے متن کا بڑا حصہ پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا، تاہم امریکی فریق مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلیاں کرتا رہا۔

ایرانی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف اور سرخ لکیروں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ 

انہوں نے آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات کے باعث یہ آبی گزرگاہ پہلے کے مقابلے میں کم محفوظ ہو گئی ہے۔

ٹرمپ نے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مذاکرات کا کوئی واضح ٹائم فریم نہیں دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، پہلے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ضروری ہوگا، جو بعد کے تفصیلی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔ 

بقائی
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا اعلان اسرائیلی وزیرِاعظم کے لیے بھی غیر متوقع تھا، جو اس وقت اپنے اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ ایران کے خلاف جاری جنگ کی صورتحال پر مشاورت کر رہے تھے۔ 

بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ اسرائیل اس مفاہمتی یادداشت کا فریق نہیں ہے، تاہم وزیراعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ حتمی معاہدے میں افزودہ جوہری مواد کے خاتمے، یورینیم افزودگی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے، میزائل پروگرام پر پابندیوں اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرپرستی روکنے جیسے نکات شامل رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ادھر امریکا اور ایران کے بیانات میں اختلاف کے باوجود، اکسیوس نے مذاکرات سے باخبر 3 ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بدھ کے روز ایرانی حکام اور قطری ثالثوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اہم اختلافات کافی حد تک کم ہو گئے۔ 

ذرائع کے مطابق 3 بنیادی معاملات پر پیش رفت ہوئی، جن میں منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کا طریقہ کار، 60 روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات، اور جنگ بندی کے دوران ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا طریقۂ کار شامل ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای زخمی

ان ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے جمعرات کو متعدد ممالک کو آگاہ کیا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ایک ابتدائی اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

اکسیوس کے مطابق زیرِ غور مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو کھولنا اور امریکی بحری محاصرہ ختم کرنا ہے، جبکہ ایرانی جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق معاملات کے لیے مزید تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔

اب دنیا کی نظریں آنے والے چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ آیا یہ پیش رفت ایک ایسے تنازعے کا اختتام ثابت ہوگی جس کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، یا پھر حالات دوبارہ نقطۂ آغاز پر لوٹ جائیں گے، خصوصاً ایسے نازک جنگ بندی معاہدے کے سائے میں جسے خود صدر ٹرمپ نے ’دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ خلاف ورزیوں کا شکار جنگ بندی‘ قرار دیا ہے۔