امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بہترین تصفیہ طے پا گیا ہے اور امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ چند روز میں معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس مجوزہ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت خطے کے متعدد رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں اور معاہدے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو باضابطہ
طور پر کھول دیا جائے گا اور یہ عمل بہت جلد، شاید آئندہ ہفتے کے آغاز تک مکمل ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ اس مفاہمت کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف آبنائے ہرمز کھلے گی بلکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی محاصرہ بھی ختم ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کو ’انتہائی مضبوط مفاہمتی یادداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اس کی تکمیل یقینی دکھائی دیتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
تاہم بعد ازاں انہوں نے اچانک مؤقف تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران پر آج رات کیے جانے والے مجوزہ حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں کیونکہ مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور بات چیت ایرانی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت اور اصولی اتفاق رائے کے بعد حملوں کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے مقام اور تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم اس وقت تک امریکی بحری محاصرہ پوری شدت کے ساتھ برقرار رہے گا۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا کے علاوہ اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک نے بھی اس معاہدے کے بنیادی نکات پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے ایران کے خلاف شدید فوجی حملوں، جزیرہ خارگ پر قبضے اور ایرانی تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو کنٹرول کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب ایرانی اور یورپی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے اور کئی اہم معاملات پر مزید تفصیلی بات چیت درکار ہے، جن میں ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی، جوہری پروگرام اور اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جبکہ جوہری تنازعات سے متعلق پیچیدہ امور کو آئندہ مذاکرات کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔