امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آج رات ایران پر مزید شدید حملے کرے گا۔
انہوں نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر ممکنہ کنٹرول حاصل کرنے کا عندیہ بھی دیا اور کہا کہ واشنگٹن ایرانی تیل و گیس کے شعبے پر اسی طرز کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے جیسی وینزویلا کے معاملے میں اپنائی گئی تھی۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضے یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں، تاہم انہیں انتہائی خطرناک اور آخری آپشن تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر قبل اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف آج رات کیے جانے والے طے شدہ حملے منسوخ کر دیے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر انتہائی طاقتور حملہ کرے گا، جبکہ ایران کے تیل و گیس کے اہم مراکز پر کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
آج جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی بحری اور فضائی قوت، ریڈار سسٹمز، فضائی دفاع اور دیگر اہم دفاعی صلاحیتوں کا بڑا حصہ کھو چکا ہے، اور امریکی فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کریں گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مستقبل قریب میں ایران کے خارگ جزیرے سمیت اہم تیل تنصیبات پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے ایرانی تیل اور گیس کی منڈیوں پر مکمل اثر و رسوخ قائم کیا جا سکے گا، جیسا کہ امریکہ نے ماضی میں وینزویلا کے معاملے میں کیا تھا۔
مزید پڑھیں
خارگ جزیرہ خلیج میں ایران کی سب سے اہم تیل برآمدی تنصیبات کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور ایران کی توانائی برآمدات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ایران دنیا کے بڑے تیل و گیس ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ امریکی پابندیوں کے باوجود وہ مختلف عالمی منڈیوں خصوصاً چین کو تیل برآمد کرتا رہا ہے۔
فوکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم وہ خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے آپشن کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی زمینی فوج بھی تعینات کی جا سکتی ہے، تاہم ان کی خواہش نہیں کہ ایرانی عوام کو نقصان پہنچے یا ملک کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ایران کے خلاف فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پینٹاگون اور امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خارگ جزیرے پر قبضے یا اس کی توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے کے فوجی منصوبے کئی ماہ قبل تیار کیے جا چکے تھے، لیکن ان سے جڑے سنگین
خطرات کے باعث ان پر عمل درآمد بار بار مؤخر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے بعض حلقوں کا خیال ہے
کہ خارک جزیرے پر قبضہ یا اس کی توانائی تنصیبات کی تباہی ایران کو شدید معاشی دھچکا پہنچا سکتی ہے، جس سے اس کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
جزیرہ خارگ پھر عالمی توجہ کا مرکز
ایران کی تیل برآمدات، عالمی توانائی منڈی اور خلیجی سلامتی کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل مقام
40 کلومیٹر²
تقریباً رقبہ
90%
ایرانی تیل برآمدات کا ممکنہ راستہ
بوشہر
ساحل کے قریب اہم مقام
7 ملین
بیرل یومیہ تاریخی گنجائش
📍 خارگ کیوں اہم ہے؟
ایران کی تیل آمدنی کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں خلل عالمی توانائی قیمتوں کو فوری متاثر کر سکتا ہے۔
کسی بھی حملے یا قبضے کی بحث اسے حساس بناتی ہے۔
🔍 اہم معلومات
🏝️ چھوٹا جزیرہ، بڑا اثر
جزیرہ خارگ خلیج کے شمال میں بوشہر کے قریب واقع ہے۔ رقبہ کم ہونے کے باوجود عالمی توانائی نظام میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
🛢️ برآمدی مرکز کیسے بنا؟
20 ویں صدی کے دوران خارگ خام تیل ذخیرہ کرنے اور لوڈنگ کا بڑا مرکز بنا، جہاں سے بڑے ٹینکرز کے ذریعے ایرانی تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
⚔️ پرانا عسکری ہدف
ایران عراق جنگ کے دوران بھی خارگ حملوں کا نشانہ بنا، جس سے ایران کو متبادل بندرگاہوں کا استعمال کرنا پڑا۔
🌐 عالمی خطرہ
خارگ میں کسی بھی خلل سے ایران کی برآمدات، چین سمیت خریدار ممالک اور عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
📌 خلاصہ
جزیرہ خارگ صرف ایک چھوٹا ایرانی جزیرہ نہیں بلکہ ایران کی تیل برآمدات کی مرکزی شریان ہے۔ اسی لیے اس پر کسی بھی حملے، قبضے یا خلل کا اثر صرف تہران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچے گا۔
تاہم امریکی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائی کے لیے بڑی تعداد میں زمینی فوج درکار ہوگی اور امریکی افواج کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اسی وجہ سے اس منصوبے کو ’آخری آپشن‘ یا ’فیصلہ کن مرحلے کا متبادل‘ قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی فضائیہ ماضی میں خارک جزیرے پر متعدد حملے کر چکی ہے، تاہم ان کارروائیوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تاکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پیدا نہ ہو۔