امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران کے نئے رہنما ایسے خطرات مول لے رہے ہیں، جن سے ان کے پیش رو گریز کیا کرتے تھے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حالیہ حملے دہائیوں پر محیط پراکسی جنگ اور خفیہ آپریشنز کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہیں۔
تہران اب روایتی صبر و تحمل کے بجائے براہِ راست عسکری قوت کے استعمال پر آمادہ نظر آتا ہے۔
ایران کی بدلتی عسکری پالیسی
ایران نے لبنان میں حملوں کے ردِ عمل میں اسرائیل کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اس کی ’سرخ لکیریں‘ اب ملکی سرحدوں تک محدود نہیں ہیں۔
تہران کی نئی قیادت اب زیادہ خطرات مول لینے کے لیے تیار ہے اور وہ اپنے فوجی اور معاشی اثر و رسوخ کو براہِ راست استعمال کر رہی ہے۔
سفارتکاری اور طاقت کا تضاد
ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اور امریکا جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایران ایسی یکطرفہ صورتحال کو ہرگز قبول نہیں کرے گا جہاں سفارت کاری کی آڑ میں ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جائے۔
پرانی حکمتِ عملی کا خاتمہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی نئی قیادت اس محتاط طرزِ عمل کو ترک کر رہی ہے جو ماضی میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت یا 2025 میں جوابی کارروائیوں کے وقت اختیار کیا گیا تھا۔
اب تہران اپنی کارروائیوں کے ذریعے دشمنوں کے لیے غیر متوقع اور سخت جوابی اقدامات کرنے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔
علاقائی طاقت کا نیا تعین
انسٹی ٹیوٹ فار کوئنسی کے تریتا بارسی کے مطابق یہ دہائیوں میں پہلی بار ہے کہ ایک علاقائی طاقت اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف براہِ راست قوت کا استعمال کر رہی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد اسرائیل کو اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں سے روکنے کے لیے ایک نئی رکاوٹ کھڑی کرنا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی اتحاد کا امتحان
ایران اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجود اختلافات کو ہوا دے رہا ہے۔
جہاں ایک طرف ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان عوامی اختلافات سامنے آئے ہیں، وہیں ایران واشنگٹن کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اسرائیل کی عسکری حمایت اور سفارتکاری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔
ممکنہ مستقبل
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام رہی تو وہ جنگ کو خلیج عرب سے باہر تک پھیلا سکتا ہے، جو بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی راستوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ کشیدگی ثابت کرتی ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بادل مزید گہرے ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے براہِ راست حملوں کا سلسلہ ایک نئی علاقائی حقیقت کو جنم دے رہا ہے۔
تہران نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری صلاحیتوں کو خطے کے ہر کونے میں استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہے، جس نے اسرائیل اور امریکا کی روایتی دفاعی حکمت عملی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔