اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایران نے جزیرہ خارگ کے گرد بارودی سرنگیں بچھا دیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: العربیہ

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے جزیرہ خارگ پر اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور دفاعی نظام کو مضبوط کردیا ہے۔ 

علاوہ ازیں جزیرہ کے گرد ساحلوں پر بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں تاکہ کسی بھی امریکی کارروائی کے امکان کے لیے تیاری کی جا سکے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جزیرہ پر قبضے کے لیے زمینی فوج کے استعمال کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔ 

یہ جزیرہ شمال مشرقی خلیج میں واقع ہے اور ایران کے لیے اقتصادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے تقریباً 90 فیصد تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔ 

امریکی مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا اور ہرمز کے راستے دوبارہ کھلوانا ہے۔

تاہم امریکی اہلکار اور فوجی ماہرین اس کارروائی کے خطرات سے خبردار ہیں۔ 

جزیرہ میں کثیر سطحی دفاعی نظام موجود ہے، جس میں مانبادز قسم کے شانہ پر لے جانے والے میزائل شامل ہیں، جس کی وجہ سے امریکی فوجی نقصانات کے امکانات زیادہ ہیں۔ 

مزید برآں، ایران نے ساحلوں پر افراد اور ٹینکوں کے لیے مائنیں نصب کی ہیں، جو کسی بھی امریکی آبی حملے میں خطرہ بن سکتی ہیں۔

454645
فوٹو: عاجل

امریکا میں بعض حلیف بھی اس آپریشن کی افادیت پر شکوک ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق صرف خارگ پر قبضہ ہرمز کے بحران یا عالمی توانائی مارکیٹ پر ایران کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے 13 مارچ کو جزیرہ پر حملے کیے تھے، جن میں تقریباً 90 مقامات نشانہ بنائے گئے، بشمول مائن اسٹوریج، میزائل اور دیگر فوجی تنصیبات۔ 

اس وقت ٹرمپ نے کہا تھا کہ تیل کی بنیادی تنصیبات کو اخلاقی وجوہ کی بنا پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

اس دوران اسرائیلی ذرائع نے خبردار کیا کہ جزیرہ پر قبضہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت پیدا کر سکتا ہے، جس سے امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو سکتے ہیں۔ 

تہران میں پارلیمنٹ کے صدر محمد باقر قاليباف نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایرانی جزائر پر قبضے کی کوششوں کو سختی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے اور دشمن کی مدد کرنے والی کسی بھی ریاستی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

فوجی ماہرین کے مطابق جزیرہ جس کا رقبہ تقریباً تھرڈ آف منہٹن کے برابر ہے، پر قبضے کے لیے بڑی تعداد میں بحری دستوں کی ضرورت ہوگی، بشمول امریکی میرینز کے خصوصی یونٹس اور ہزاروں فوجی جو اگلے چند دنوں میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔

strait of hormuz
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اگرچہ امریکی حملوں نے کچھ دفاعی تنصیبات کو کمزور کیا ہے، پھر بھی قریب ہونے کی وجہ سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات برقرار رہیں گے۔

خلیجی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کے حلیف ممالک امریکی انتظامیہ کو زمینی فوجی کارروائی سے گریز کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں کیونکہ اس سے انسانی نقصانات بڑھ سکتے ہیں اور ایران کی جانب سے خلیجی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو تنازعہ کو طول دے گا۔

اس کے بجائے، یہ ممالک ایران کے میزائل پروگرام کو ناکارہ بنانے پر زور دے رہے ہیں، جو امریکی محکمہ دفاع کی حکمت عملی سے بھی ہم آہنگ ہے۔ 

ماہرین نے بحری محاصرے کا بھی مشورہ دیا ہے تاکہ جزیرہ خارک سے تیل کی برآمدات روکی جائیں، جو زمینی فوجی کارروائی کے مقابلے میں کم خطرناک اور کم مہنگا متبادل ہے۔