مشرقِ وسطیٰ کا پورا خطہ اس وقت ایک بڑے اور غیر یقینی تزویراتی (Strategic) موڑ پر کھڑا ہے۔
مزید پڑھیں
بیروت کے جنوبی نواح میں حالیہ اسرائیلی بمباری اور اس کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اب کسی ایک فریق کی مرضی کا محتاج نہیں رہا۔
بدلتی ہوئی علاقائی کشمکش
موجودہ حالات محض ایک فوجی ٹکراؤ نہیں، بلکہ خطے کے مستقبل پر اثرانداز ہونے والی ایک بڑی کشمکش ہے۔
ایک جانب وہ نظریہ ہے جو امریکی حمایت سے اسرائیلی بالادستی چاہتا ہے، تو دوسری جانب وہ قوتیں ہیں جو خطے میں طاقت کے یک طرفہ ارتکاز کو روکنا چاہتی ہیں۔
اسرائیلی سیاست میں تقسیم اور یکجہتی کے پہلو
اسرائیلی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان داخلی سیاسی اور ذاتی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔
لیکن سلامتی کے امور پر اسرائیلی طبقات میں گہری یکجہتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران، غزہ اور لبنان کے معاملے پر تمام بڑی سیاسی قوتوں کا نقطہ نظر بنیادی اہداف کے لحاظ سے ایک ہی ہے۔
اسرائیلی سیاسی حلقوں میں اختلاف کا محور اہداف نہیں بلکہ انہیں حاصل کرنے کے طریقے ہیں۔
تمام اسرائیلی سیاسی جماعتیں ایران کو علاقائی سطح پر سب سے بڑا چیلنج سمجھتی ہیں اور حزب اللہ کی عسکری و سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کے عزم پر متفق نظر آتی ہیں۔
بیروت میں حملہ: سیاسی اور عسکری پیغامات
بیروت کے جنوبی علاقے (ضاحیہ) پر اسرائیلی حملہ صرف ایک محدود کارروائی نہیں تھی۔ یہ حزب اللہ کے مرکزی اور علامتی مرکز کو نشانہ بنا کر سیاسی پیغام دینے کی کوشش تھی۔
اسرائیل نے یہ قدم اپنی جارحانہ صلاحیت اور عسکری اقدام کی آزادی ثابت کرنے کے لیے اٹھایا۔
تاہم یہ پیغام ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب علاقائی محاذ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
اب کسی بھی ایک محاذ پر ہونے والی کشیدگی کے اثرات اس کے جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
واشنگٹن کی تزویراتی مشکل
امریکی انتظامیہ روایتی طور پر اسرائیل کی حامی ضرور ہے، لیکن وہ ساتھ ہی ایک وسیع تر علاقائی جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں ہے۔
امریکہ کو خدشہ ہے کہ کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی عوام کی طویل اور مہنگی بیرونی جنگوں میں دلچسپی بھی کم ہو چکی ہے۔
اس لیے وائٹ ہاؤس سیاسی اور عسکری حمایت جاری رکھنے کے باوجود ایسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کے ذریعے خطے میں مکمل انتشار اور بڑے دھماکے کو روکا جا سکے۔
ایرانی دفاع اور غیر متوقع ردعمل
ایران کی جوابی کارروائی نے واضح کیا ہے کہ تہران لبنانی صورتحال کو اپنی سلامتی سے الگ نہیں سمجھتا۔
ایران نے پیغام دیا ہے کہ اپنے حلیفوں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور خطے میں طاقت کے نئے اصول کسی ایک فریق کی مرضی سے نہیں بن سکتے۔
ایران نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ برسوں کی پابندیوں اور اپنے اہم کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود وہ اور اس کے حلیف اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ پیغام واشنگٹن کے لیے بھی تھا کہ طاقت کے زور پر نئی علاقائی صف بندی کی کوششیں خطرناک نتائج پیدا کریں گی۔
حزب اللہ کا عزم اور جاری کشمکش
حزب اللہ نے تمام تر عسکری اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی تزویراتی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے۔
حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام طاقت کے توازن اور تمام فریقوں کے مفادات کے تحفظ ہی سے ممکن ہے، نہ کہ دباؤ کے تحت طے کیے گئے یک طرفہ معاہدوں سے۔
ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ صرف فوجی برتری پائیدار سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔
مقامی قوتیں اکثر بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے اور مزاحمت کے نئے طریقے اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کشمکش ایک طویل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
مستقبل کے امکانات
مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر ہے، جہاں عسکری اور سیاسی حساب کتاب آپس میں بری طرح الجھ چکے ہیں۔
اسرائیل اپنی عسکری برتری کو طویل مدتی تزویراتی فوائد میں بدلنا چاہتا ہے، جبکہ مزاحمتی قوتیں اپنی بقا اور اثر و رسوخ کو ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام فریقوں کی پنجہ آزمائی کے بعد بھی خطہ ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔
طاقت کے توازن کا پلڑا کسی ایک طرف نہیں جھکا اور تمام فریق اب بھی واقعات کے دھارے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آنے والا وقت خطے کے لیے غیر یقینی صورتحال کا حامل ہے۔