امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی تصادم اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ جنگ کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے۔
ادھر امریکہ نے ایران پر نئی فضائی کارروائیاں کیں جبکہ تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس صورتحال کے بعد بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ کویت نے بھی احتیاطی طور پر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی تھیں، جنہیں بعد میں دوبارہ کھول دیا گیا۔
اگرچہ دونوں ممالک مسلسل دوسرے روز ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے لیے رابطے جاری ہیں۔
اسی طرح ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، جن میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔