اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

بحرین پر ایرانی حملے، بچی زخمی، گاڑیوں اور گھروں کو نقصان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بحرین پر ایرانی حملہ
بحرینی وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ سے ماخوذ

بحرین کی وزارت داخلہ نے آج جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں 11 سالہ بچی معمولی زخمی ہوگئی، جبکہ دارالحکومت منامہ اور حمد سٹی میں متعدد گاڑیاں جل گئیں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

وزارت داخلہ کے مطابق ایرانی ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیا گیا، تاہم ان کے ملبے کے گرنے سے مختلف علاقوں میں نقصانات ہوئے۔ 

زخمی بچی کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ سول ڈیفنس اور نیشنل ایمبولینس سروس نے متاثرہ مقامات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا۔

مزید پڑھیں

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 

دونوں ممالک نے مسلسل دوسرے روز ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔ 

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے فوری طور پر امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔

موجودہ بحران کا آغاز اس ہفتے اس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا۔ 

اس واقعے کے بعد خطے میں امریکی اور ایرانی اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی تازہ کارروائیوں میں ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 

واشنگٹن نے ان حملوں کو ایران کی جانب سے جاری بلااشتعال جارحیت کا جواب قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملے کیے ہیں۔ 

ایرانی بیان کے مطابق بحرین اور کویت میں 18 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اردن کے الأزرق فضائی اڈے پر مسلسل دوسری رات 12 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائیاں تقریباً 4 گھنٹے بعد مکمل کر لی گئیں، تاہم خطے میں سکیورٹی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بحرین میں شہری آبادی کو پہنچنے والا یہ نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاری فوجی تصادم اب براہِ راست خلیجی ممالک کے اندرونی امن اور شہری سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ 

اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو پورا خطہ ایک وسیع تر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔