بحرین کی وزارت داخلہ نے آج جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں 11 سالہ بچی معمولی زخمی ہوگئی، جبکہ دارالحکومت منامہ اور حمد سٹی میں متعدد گاڑیاں جل گئیں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
وزارت داخلہ کے مطابق ایرانی ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیا گیا، تاہم ان کے ملبے کے گرنے سے مختلف علاقوں میں نقصانات ہوئے۔
زخمی بچی کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ سول ڈیفنس اور نیشنل ایمبولینس سروس نے متاثرہ مقامات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا۔
مزید پڑھیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
دونوں ممالک نے مسلسل دوسرے روز ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے فوری طور پر امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔
موجودہ بحران کا آغاز اس ہفتے اس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا۔
اس واقعے کے بعد خطے میں امریکی اور ایرانی اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
جراء العدوان الإيراني الآثم الذي تتعرض له مملكة البحرين … إصابة بسيطة لطفلة 11 عاما ومعالجتها في الموقع واحتراق مركبات وتضرر منازل في مدينة حمد والعاصمة المنامة إثر سقوط شظايا ناتجة عن اعتراض وتدمير مسيرات إيرانية ، والدفاع المدني والإسعاف الوطني قاما باتخاذ الاجراءات اللازمة. pic.twitter.com/SnUV5EFAX6
— Ministry of Interior (@moi_bahrain) June 11, 2026
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی تازہ کارروائیوں میں ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن نے ان حملوں کو ایران کی جانب سے جاری بلااشتعال جارحیت کا جواب قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملے کیے ہیں۔
ایرانی بیان کے مطابق بحرین اور کویت میں 18 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اردن کے الأزرق فضائی اڈے پر مسلسل دوسری رات 12 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائیاں تقریباً 4 گھنٹے بعد مکمل کر لی گئیں، تاہم خطے میں سکیورٹی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحرین میں شہری آبادی کو پہنچنے والا یہ نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاری فوجی تصادم اب براہِ راست خلیجی ممالک کے اندرونی امن اور شہری سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو پورا خطہ ایک وسیع تر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔