اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

بمباری، میزائل اور ہرمز کی بندش: امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران جنگ

امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار مراکز، ڈرون کمانڈ یونٹس اور فوجی تنصیبات پر وسیع حملے شروع کر دیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی حالیہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گزرنے والی کسی بھی کشتی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور ڈرون آپریشنز سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ ایران کے خلاف حملے شروع ہو چکے ہیں۔ 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی سخت پالیسی مزید واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکی افواج ایران کے اندر اہم اہداف پر طاقتور حملوں کی تیاری کر رہی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے کی امیدیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کی شام کہا کہ امریکہ آج رات ایران پر بھرپور حملہ کرے گا۔ 

انہوں نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ آئندہ چند گھنٹوں میں طے شدہ فوجی کارروائیوں میں مصروف رہے گی۔ 

ان کا کہنا تھا اگر ہمیں بموں کے ذریعے مذاکرات کرنا پڑے تو ہم ایسا 

بھی کریں گے۔

اس کے فوراً بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں متعدد اہداف کے خلاف حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں ایران کی مسلسل اور بلاجواز جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

ٹرمپ ایران کشیدگی

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکی جنگی طیارے ایران کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ایرانی حکام سے براہِ راست بات چیت ہوئی ہے اور ایرانیوں نے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے، تاہم انہوں نے مزید حملوں کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

امریکی ذرائع کے مطابق تمام حملے جنوبی ایران میں واقع فوجی اہداف پر کیے گئے۔ 

ان میں فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور ڈرونز کے آپریشن اور انتظام سے متعلق یونٹس شامل تھے۔

ان اہداف کے انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کے گرد ایران کی دفاعی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ اس کی فضائی اور ڈرون کارروائیوں کی صلاحیت محدود کی جا سکے۔ 

ساتھ ہی یہ کارروائیاں ایران کو ایک واضح عسکری پیغام دینے کی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں خصوصاً آبنائے ہرمز کے ساحلی خطوں میں کیے گئے۔ 

بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب ایک فوجی اڈے کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ بندر عباس بندرگاہ، سیریک اور میناب میں بھی متعدد دھماکے سنے گئے۔

ChatGPT Image 9 يونيو 2026، 09 59 06 ص

ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے خلیج کے پانیوں میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاع دی۔ 

اسی دوران بوشہر اور فارس صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ اصفہان اور تہران کے مغربی علاقوں میں بھی جنگی طیاروں کی آوازیں سننے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خطے میں امریکی فوجی مفادات کو مضبوط بنانا اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں واشنگٹن کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں، جو امریکی انتظامیہ کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں موجودہ اندازوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا فوری اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

بعد ازاں ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے اطلاع دی کہ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے جوابی حملوں کے پہلے مرحلے میں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی فوج کے 18 اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے اور کویت میں امریکی اڈوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، اور خبردار کیا کہ ایران کا ردعمل سخت ہوگا۔

ایران اسرائیل جنگ بندی

صورتحال مزید سنگین اس وقت ہوئی جب ایرانی مشترکہ چیف آف اسٹاف کے حوالے سے خبر دی گئی کہ آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ 

ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ گزرنے والی کسی بھی کشتی کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

تاہم امریکی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہاز معمول کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

امریکی سفارت خانے نے بغداد میں اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ 

ادھر اسرائیل نے بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کے پیش نظر اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی ذرائع نے واضح کیا کہ جاری امریکی کارروائی میں اسرائیلی فوج براہِ راست شریک نہیں، تاہم اسرائیل کو اس آپریشن کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ 

ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق فوری امن معاہدے کے امکانات نہایت محدود ہیں۔

ChatGPT Image 7 يونيو 2026، 09 06 49 م

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب فوجی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ 

تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی غلط اندازے کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔