عالمی سطح پر غیر ملکی اثاثے منجمد کرنا اب محض ایک تعزیری اقدام نہیں رہا، بلکہ یہ بین الاقوامی معاشی نظام میں اثر و رسوخ کا طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
اس عمل سے نہ صرف ہدف بننے والی ریاستیں اپنے مالی ذخائر تک رسائی سے محروم ہو جاتی ہیں، بلکہ یہ رقم میزبان ممالک کے لیے سرمایہ کاری اور منافع کا ایک بڑا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔
عالمی حجم اور سیکیورٹی خدشات
سیکرٹری روسی قومی سلامتی کونسل سرگئی شوئیگو کے مطابق عالمی سطح پر منجمد غیرملکی اثاثوں کی مالیت 590 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
اس میں روس، ایران، افغانستان، وینزویلا، شمالی کوریا، کیوبا، لیبیا اور عراق سمیت وہ ممالک شامل ہیں جو امریکی یا مغربی پابندیوں کی زد میں ہیں۔
روس: منجمد اثاثوں کا سب سے بڑا کیس
بروکنز انسٹی ٹیوشن کی رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد روس کے 300 سے 330 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کیے گئے۔
ریپو (REPO) گروپ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان میں سے 280 ارب ڈالر مغربی ممالک کی حدود میں ہیں۔ اس کا بڑا حصہ یعنی 200 ارب ڈالر بیلجیم کی یوروکلیئر (Euroclear) کے پاس موجود ہے۔
یوروکلیئر نے ان رقوم کو مختصر مدت کی منڈیوں میں سرمایہ کاری کر کے 2024 میں 7 ارب ڈالر کا منافع کمایا۔
بیلجیم حکومت نے اس منافع پر ٹیکس کی مد میں 2 ارب ڈالر حاصل کیے، جنہیں یوکرین کی مدد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
اسی طرح جی-7 ممالک نے بھی ان مستقبل کے منافعوں سے یوکرین کے لیے 50 ارب ڈالر کے قرض پیکیج پر اتفاق کیا ہے۔
افغانستان: ایک الگ معاشی ماڈل
اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی ٹریژری اور نیویارک فیڈرل ریزرو نے افغان مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالر منجمد کیے۔
بعد ازاں صدر جو بائیڈن نے 3.5 ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ میں قائم افغان فنڈ میں منتقل کر دیے تاکہ ملک میں معاشی استحکام لایا جا سکے اور باقی رقم 11 ستمبر کے متاثرین کے قانونی مقدمات میں پھنسی ہوئی ہے۔
ایران اور وینزویلا: طویل معاشی تعطل
ایرانی اثاثے 100 سے 120 ارب ڈالر کے درمیان ہیں، جو اس کی جی ڈی پی کا ایک تہائی ہیں۔ یہ رقم زیادہ تر چین، بھارت، عراق، قطر اور دیگر ممالک میں موجود ہے۔
اسی طرح وینزویلا کے 2 ارب ڈالر کا سونا بینک آف انگلینڈ کے پاس سیاسی تنازعات کی وجہ سے منجمد پڑا ہے۔
لیبیا اور ازبکستان: پیچیدہ کیسز
لیبیا کے 40 سے 43 ارب ڈالر کے اثاثے 2011 سے منجمد ہیں۔
دوسری جانب ازبکستان کے معاملے میں سوئٹزرلینڈ نے گلنارا کریموفا کے کیس میں ضبط شدہ 842 ملین ڈالر میں سے ایک بڑا حصہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے بحال کرنے کا اقدام کیا ہے۔
اثاثوں اصل منافع کون لے رہا ہے؟
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تجزیوں کے مطابق میزبان ممالک ان اثاثوں کی اصل رقم تو استعمال نہیں کرتے، لیکن ان کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع اور ٹیکسوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ عمل مالیاتی مراکز کے لیے اضافی آمدن اور عالمی اقتصادی نظام میں گہرا اثر قائم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اثاثے منجمد کرنا اب عالمی سیاست کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے، جہاں قانونی پیچیدگیاں اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
اگرچہ یہ اقدامات پابندیوں کے طور پر شروع کیے گئے تھے، مگر اب ان کا استعمال منجمد رقوم کو قرضوں اور امدادی فنڈز کی ضمانت کے طور پر کرنا عالمی مالیاتی نظام میں ایک نئی اور متنازع مثال قائم کر رہا ہے جو مستقبل میں مزید قانونی بحثوں کو جنم دے گا۔