براہ راست نشریات

عالمی توجہ کا مرکز بننے والی وہیل سمندر میں چھوڑے جانے کے بعد ہلاک

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ہمپ بیک وہیل ٹیمی کی سمندر میں ہلاکت اور بچاؤ کی مہم کی ناکامی
یہ وہیل کچھ روز قبل ڈنمارک کے ساحل پر مردہ حالت میں پائی گئی (فوٹو: الجزیرہ)

ہمپ بیک وہیل جس نے دنیا کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا، بچائے جانے اور شمالی سمندر میں چھوڑے جانے کے چند دن بعد ہی مر گئی۔

مزید پڑھیں

جرمن حکام نے تصدیق کی ہے کہ ’ٹیمی‘ نامی مشہور وہیل، جسے بچانے کے لیے بحیرہ شمالی میں چھوڑا گیا تھا، ممکنہ طور پر ہلاک ہوگئی ہے۔

 یہ وہیل کچھ روز قبل ڈنمارک کے ساحل پر مردہ حالت میں پائی گئی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے بچاؤ کی مہم ناکام ثابت ہوئی۔

شمال مشرقی جرمن ریاست مکلنبرگ فورپومرن کے وزیر ماحولیات ٹل بیک ہاؤس کے مطابق ٹیمی کی ہلاکت شاید 6 یا 7 مئی کو ہوئی۔ 

یہ اندازہ وہیل کے جسم پر نصب ٹریکنگ ڈیوائس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جو مسلسل مانیٹرنگ میں تھا۔

جرمنی کے ساحل پر جرمنی میں ہمپ بیک وہیل کا ریسکیو آپریشن اور اسے بحری جہاز کے ذریعے منتقل کرنے کا منظر
(فوٹو: العربیہ)

ٹیمی نامی یہ وہیل، جس کے بارے میں بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ مادہ تھی، کئی ماہ تک جرمنی میں عوامی توجہ کا مرکز رہی۔

یہ وہیل بحیرہ بالٹک کے ساحلوں پر پھنس گئی تھی جس کے بعد اس کی زندگی بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کی گئی تھیں۔

حکام کی ابتدائی ناکامی کے بعد کروڑ پتی افراد کے مالی تعاون سے ایک نجی مہم شروع کی گئی تھی۔ 

ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا تھا کہ وہیل بہت کمزور ہو چکی ہے اور منتقلی کے اس طویل عمل کے دوران اسے شدید جسمانی مشکلات اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جرمنی کے ساحل پر جرمنی میں ہمپ بیک وہیل کا ریسکیو آپریشن اور اسے بحری جہاز کے ذریعے منتقل کرنے کا منظر
(فوٹو: العربیہ)

ٹیمی کو 2 مئی کو ڈنمارک کی بندرگاہ سکاجن سے 70 کلومیٹر دور سمندر میں چھوڑا گیا تھا۔

تاہم اس مہم کے 2 ہفتوں بعد اس کی لاش ڈنمارک کے جزیرے انہولٹ کے ساحل پر لہروں کے ساتھ بہہ کر آ گئی، جہاں سے حکام نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

ٹریکنگ ڈیٹا سے انکشاف ہوا کہ ہلاکت سے قبل وہیل نے بحیرہ بالٹک کی جانب 215 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، جو اس کا قدرتی مسکن نہیں ہے۔ 

وہاں پہنچ کر اس کی رفتار سست ہو گئی اور اس نے گہرائی میں غوطہ لگانا بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا تھا۔