ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے وال اسٹریٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے ابتدائی عوامی حصص (آئی پی او) کا آغاز کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
کمپنی آئی پی او کے اس عمل کے ذریعے تقریباً 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے اس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 1.77 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
یہ پیشکش 2019ء میں سعودی ارامکو کی جانب سے بنائے گئے عالمی ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔
کمپنی نے اپنے ایک شیئر کی قیمت 135 ڈالر مقرر کی ہے جس کی
باقاعدہ ٹریڈنگ کا آغاز جمعہ 12 جون 2026 سے ہو چکا ہے اور اس میں عام لوگوں کو بڑی رعایت دی گئی ہے۔
اس آئی پی او کی خاص بات یہ ہے کہ کمپنی نے کل حصص کا ایک تہائی حصہ عام افراد کے لیے مختص کیا ہے۔
یہ شرح عام طور پر دی جانے والی رعایت سے 3 گنا زیادہ ہے جس کا مقصد بڑے اداروں کے بجائے عام شہریوں سے بھاری سرمایہ حاصل کرنا ہے۔
مالیاتی دستاویزات کے مطابق اسپیس ایکس فی الحال بھاری خسارے کا شکار ہے اور یہ عوامی پیشکش دولت کی تقسیم کے بجائے خطرات کی منتقلی معلوم ہوتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ عوام کو ایک ایسے مہنگے جوئے میں شامل کیا جا رہا ہے جس کا منافع ابھی ثابت نہیں ہوا۔
سال 2023ء میں کمپنی کی آمدنی 10.4 ارب ڈالر تھی جبکہ اخراجات 4.4 ارب ڈالر رہے تھے۔
تاہم 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں صورتحال بدل گئی جہاں 4.7 ارب ڈالر کی آمدنی کے مقابلے میں بنیادی ڈھانچے پر 10.1 ارب ڈالر کے بھاری اخراجات کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس اب صرف خلائی کمپنی نہیں رہی بلکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
سافٹ ویئر کے برعکس مصنوعی ذہانت کے لیے مہنگی چپس، ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جو کمپنی کے مالی وسائل کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی دیگر کمپنیاں بھی اسی بحران کا شکار ہیں۔
اوپن اے آئی کو صرف 2026 میں 14 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے اور منافع بخش ہونے سے پہلے اسے مزید 115 ارب ڈالر کی خطیر رقم جلانے کی ضرورت پڑے گی۔
سرمایہ کاری فرم سیکویا کے مطابق اس شعبے کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سالانہ 600 ارب ڈالر کی آمدنی درکار ہے۔
دوسری جانب ایم آئی ٹی کی تحقیق بتاتی ہے کہ 95 فیصد مصنوعی ذہانت کے منصوبے اب تک کوئی ٹھوس مالی فائدہ دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں کا 40 فیصد حصہ اب صرف 7 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل ہے۔
ان میں الفابیٹ، ایمیزون، ایپل، ٹیسلا، میٹا، مائیکروسافٹ اور اینوِڈیا شامل ہیں۔ عام لوگوں کی پنشن اور بچت کے فنڈز اب براہ راست ان کمپنیوں کی کارکردگی سے جڑے ہوئے ہیں۔
اسپیس ایکس کے آئی پی او میں عام لوگوں کو صرف 5 فیصد سے کم مالیت کے حصص دیے جا رہے ہیں۔
ایلون مسک کے پاس 42 فیصد ملکیت کے باوجود 79 فیصد ووٹنگ پاور رہے گی جس کا مطلب ہے کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کا کمپنی کے فیصلوں میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔
اگرچہ اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس منافع بخش ہے لیکن کمپنی کا مستقبل اب مصنوعی ذہانت کے اسٹارٹ اپ ’ایکس اے آئی‘ سے جڑا ہے۔
اس انضمام کے بعد سرمایہ کاروں کا پیسہ خلا میں نئے ڈیٹا سینٹرز بنانے پر خرچ ہوگا جو کہ فی الحال ایک انتہائی پرخطر اور مہنگا منصوبہ ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی قیمت عام شہری بجلی کے بلوں کی صورت میں بھی ادا کر رہے ہیں۔
امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ آئرلینڈ میں یہ مراکز ملک کی کل بجلی کا پانچواں حصہ استعمال کر رہے ہیں جس سے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا یہ بوجھ غریب ممالک پر بھی پڑ رہا ہے جہاں کینیا اور فلپائن جیسے ممالک میں مزدور صرف 2 ڈالر فی گھنٹہ پر ڈیٹا کی درجہ بندی کرتے ہیں۔
مختصر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے ثمرات چند ہاتھوں میں سمٹ رہے ہیں جبکہ اس کے معاشی خطرات پوری دنیا کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔