اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

آبنائے ہرمز دوبارہ بند، مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہوگا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
آبنائے ہرمز پابندیاں
145 میں سے 81 جہاز امریکی فیصلے کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب

ایران میں خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے اور صورتحال دوبارہ پہلے والی حالت میں واپس آ گئی ہے۔ 

تسنیم نیوز کے مطابق ایرانی انتظامیہ نے ثالث کو بتا دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا دوسرا دور نہیں چاہتا۔
یہی اطلاع امریکی انتظامیہ کو بھی کردی گئی ہے کہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے راضی نہیں ہے
۔

انہوں نے کہا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ اب بھی ایرانی مسلح افواج کی براہِ راست نگرانی اور سخت کنٹرول میں رہے گی۔

مزید پڑھیں

ترجمان کے مطابق تہران نے پہلے جاری مذاکرات کے تناظر میں نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محدود تعداد میں تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی تاہم امریکہ نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں جنہیں ایران نے ’بحری قزاقی اور سمندری ڈکیتی‘ قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی، جس کے

 باعث ایران نے دوبارہ مکمل کنٹرول اور سخت نگرانی نافذ کر دی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ صورتحال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک واشنگٹن ایرانی بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کو بغیر رکاوٹ یقینی نہیں بناتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں استحکام اور پابندیوں میں نرمی امریکہ کی سمندری کارروائیوں کے خاتمے سے مشروط ہے اور جب تک رکاوٹیں برقرار رہیں گی، ایرانی مسلح افواج سخت کنٹرول برقرار رکھیں گی۔

d468500e a1b0 44a9 bb74
(فوٹو: العربیہ)

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے حوالے سے ’اچھی خبریں‘ موصول ہوئی ہیں تاہم ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ جنگ کے امکان کی دھمکی بھی دی۔ 

ان کے مطابق، اگر جنگ بندی کے دوران معاہدہ نہ ہوا تو بدھ کے بعد صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امریکی بحری پابندیاں ایرانی بندرگاہوں پر جاری رہیں گی۔ 

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 8 اپریل کو امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا، تاہم ابتدائی مذاکرات حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔