امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران، امریکہ پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران واشنگٹن کو ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا۔
آج ہفتے کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں، وہ دوبارہ آبنائے کو بند کرنا چاہتے تھے مگر وہ ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتے‘۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج کے اختتام تک ہمیں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں مزید معلومات موصول ہوں گی‘۔
اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں، اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں‘۔
جمعہ کے روز صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ان خبروں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا جنہیں انہوں نے ’اچھی پیش رفت‘ قرار دیا۔
مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال
ایریزونا کے شہر فینکس سے واشنگٹن واپسی کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک چل رہے ہیں… ہم ہفتے کے آغاز میں مذاکرات کریں گے اور مجھے توقع ہے کہ سب کچھ بہتر رہے گا، کئی معاملات پر بات چیت اور اتفاق ہو چکا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، یہ ہر چیز سے زیادہ اہم ہے‘۔
تاہم ایک واضح تضاد میں، انہوں نے کہا کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مدتی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں اور امریکی بحری ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں پر جاری رہے گی۔
ایران کے ساتھ جنگ، جو 28 فروری کو امریکی، اسرائیلی حملے سے شروع ہوئی، ہزاروں ہلاکتوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی، کیونکہ آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا۔
ٹرمپ نے رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان مزید براہِ راست مذاکرات کا امکان ہے تاہم بعض سفارتکاروں کے مطابق اسلام آباد میں ملاقات کے انتظامات میں مشکلات کے باعث یہ امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
ہفتہ کی صبح تک پاکستانی دار الحکومت میں مذاکرات کے لیے کوئی واضح تیاری نظر نہیں آئی، حالانکہ گزشتہ ہفتے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سب سے اعلیٰ سطحی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔
دریں اثنا پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر بدھ سے تہران میں اہم مذاکرات کر رہے ہیں۔ ایک باخبر پاکستانی ذریعے کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ملاقات ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر منتج ہو سکتی ہے، جس کے بعد 60 دن کے اندر جامع امن معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔