پہلی نظر میں محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی جدید ڈرون یا فوجی طیارے کے انجن کی حرارتی جھلک بھی ہو سکتی ہے۔
ستمبر 2023 میں ناسا کے ایک آزاد سائنسی پینل نے رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ زیادہ تر غیر شناخت شدہ مظاہر کا تعلق خلائی مخلوقات سے نہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیشتر معاملات میں مسئلہ ناقص معلومات، دھندلی تصاویر یا سیاق و سباق کی کمی تھا۔
اسی طرح پینٹاگون کی 2021 کی رپورٹ، جس میں 2004 سے 2021 تک کے 144 واقعات کا جائزہ لیا گیا، کسی بھی خلائی مخلوق کے ثبوت تک نہیں پہنچ سکی۔
امریکی فلکیاتی طبیعیات دان ایڈم فرینک کا کہنا ہے کہ یہ مواد عوام کی توجہ ضرور حاصل کرتا ہے، مگر غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی ثبوت درکار ہوتے ہیں۔
پینٹاگون کے دفتر AARO کے سابق سربراہ شان کرک پیٹرک نے بھی خبردار کیا کہ ان ویڈیوز کی پراسراریت کا بڑا حصہ تصویر برداری کے طریقہ کار سے جڑا ہوتا ہے۔
اسی طرح محقق مِک ویسٹ کے مطابق ان ویڈیوز میں ’پراسرار‘ دراصل کم معیار کی تصاویر اور محدود معلومات کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب بل ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ کائنات میں زندگی کا امکان ضرور موجود ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مخلوقات زمین پر آ چکی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سی آئی اے کی بعض رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ماضی میں بعض UFO کہانیوں کو پھیلنے دیا تاکہ خفیہ فوجی پروگراموں اور جاسوس طیاروں کو چھپایا جا سکے۔
2024 میں پینٹاگون نے بھی اعتراف کیا کہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں UFO مشاہدات کی بڑی وجہ امریکی جاسوس طیاروں اور خفیہ فضائی تجربات کی آزمائشیں تھیں۔
رپورٹ کے مطابق فلموں، ٹی وی پروگراموں، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے بھی خلائی مخلوقات سے متعلق عوامی تخیل کو مزید تقویت دی۔
یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ ان فائلوں کو اس وقت کیوں جاری کیا گیا؟
امریکی حکومت کہتی ہے کہ مقصد شفافیت ہے مگر ناقدین کا خیال ہے کہ یہ عوام کی توجہ حساس سیاسی معاملات سے ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، خصوصاً جیفری ایپسٹین کیس اور ایران کے ساتھ کشیدگی سے۔
رائٹرز کے مطابق بعض ناقدین نے ان فائلوں کو ’چمکتی چیز‘ قرار دیا جو عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
یہاں تک کہ معروف پوڈکاسٹر جو روگن نے بھی ان فائلوں کے اجرا کے وقت کو مشکوک قرار دیا۔
آخر میں، بیشتر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ ان مظاہر کے بارے میں تجسس فطری ہے، مگر ہر پراسرار منظر کو خلائی مخلوق کا ثبوت سمجھ لینا سائنسی طرزِ فکر نہیں۔
اب تک کوئی ایسا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ زمین پر کسی غیر زمینی تہذیب نے قدم رکھا ہو تاہم یہ بحث آج بھی زندہ ہے اور شاید آنے والے برسوں میں مزید فائلیں اور تحقیقات اس موضوع کو مزید گرمائیں گی۔