امریکی ماہر فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن نے اپنی نئی کتاب Take Me To Your Leader میں کہا ہے کہ اگر کوئی خلائی تہذیب زمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ انسانوں سے ہزاروں یا لاکھوں سال زیادہ ترقی یافتہ ہوگی اور انسان اس کے سامنے چیونٹیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھیں گے۔
ان کے مطابق اصل سوال خلائی مخلوق کا وجود نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو کیسے دیکھے گا اگر اسے معلوم ہو جائے کہ وہ کائنات میں اکیلا نہیں۔
اعدادِ اول روشنی کی رفتار اور کششِ ثقل جیسے اصول پوری کائنات میں یکساں ہیں۔
لہٰذا ریڈیو یا لیزر سگنلز کے ذریعے بائنری نبضیں بھیجنا شاید شعوری ذہانت کے وجود کو ثابت کرنے کا سب سے منطقی طریقہ ہو لیکن اس خیال کی گہرائی یہ ہے کہ کائناتی رابطے کے لیے انسانوں کو وقتی طور پر اپنی ثقافتی، سیاسی اور مذہبی شناختوں سے اوپر اٹھ کر ’کائنات کی خام زبان‘ کی طرف واپس آنا ہوگا۔
سائنس فکشن فلموں کا مشہور جملہ Take me to your leader ٹائسن کے ہاں ایک طنزیہ فلسفیانہ سوال بن جاتا ہے۔
اگر واقعی کوئی خلائی تہذیب زمین پر آئے تو انسانیت کی نمائندگی کون کرے گا؟
امریکی صدر؟ اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل؟ پوپ؟ یا کوئی پاپ اسٹار جیسے ٹیلر سوئفٹ؟
ٹائسن یاد دلاتے ہیں کہ سائنس عینی شاہدین کے دعوؤں پر نہیں بلکہ ثبوتوں پر قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ زمین سے باہر ذہین زندگی کے امکان کو رد نہیں کرتے بلکہ اسے ایک منطقی امکان سمجھتے ہیں کیونکہ کائنات میں کھربوں ستارے اور سیارے موجود ہیں تاہم وہ جہالت کو یقین میں بدلنے سے انکار کرتے ہیں۔
شاید سب سے بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم ستاروں کے درمیان ’غیروں‘ کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ اس امکان پر کم غور کرتے ہیں کہ شاید ہم زمین پر بھی اکیلے نہیں۔
انسانی تاریخ میں جنات، بھوت، پوشیدہ مخلوقات اور ایسی غیر مرئی ہستیوں پر یقین پایا جاتا رہا ہے جو ’ہمارے درمیان‘ رہتی ہیں۔
اگرچہ جدید سائنس ان تصورات کو نفسیاتی یا ثقافتی انداز میں بیان کرتی ہے لیکن انسانی شعور میں ان کا مسلسل موجود رہنا ایک دلچسپ سوال پیدا کرتا ہے: اگر یہ مخلوقات واقعی موجود ہیں تو ہم انہیں محسوس کیوں نہیں کرتے؟
اور وہ ہماری زندگیوں پر اثر انداز کیوں نہیں ہوتیں؟
شاید، جیسا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں، وہ پہلے ہی ہمارے ساتھ رہ رہی ہوں اور ہم سے ٹکراؤ سے بچنے کا طریقہ جانتی ہوں۔