اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

امریکی سائنسدان: خلائی مخلوق انسانوں سے لاکھوں سال آگے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
نیل ڈی گراس ٹائسن
نیل ٹائسن نے ’خلائی جنگ‘ کے ہالی ووڈ تصور کو مسترد کردیا

امریکی ماہر فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن نے اپنی نئی کتاب Take Me To Your Leader میں کہا ہے کہ اگر کوئی خلائی تہذیب زمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ انسانوں سے ہزاروں یا لاکھوں سال زیادہ ترقی یافتہ ہوگی اور انسان اس کے سامنے چیونٹیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھیں گے۔
ان کے مطابق اصل سوال خلائی مخلوق کا وجود نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو کیسے دیکھے گا اگر اسے معلوم ہو جائے کہ وہ کائنات میں اکیلا نہیں۔

معروف امریکی ماہر فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کبھی بھی خلائی مخلوق کے حملے پر مبنی کوئی ناول لکھنا نہیں چاہتے تھے، نہ ہی وہ ہالی ووڈ کی ان روایتی کہانیوں کو دہرانا چاہتے تھے جن میں اڑن طشتریاں بڑے شہروں پر اترتی ہیں اور پھر کوئی بہادر امریکی پائلٹ یا طاقتور کمپیوٹر وائرس دنیا کو بچا لیتا ہے۔

اپنی نئی کتاب “Take Me To Your Leader: Perspectives on Your First Alien Encounter” میں ٹائسن ’پہلے رابطے‘ کے تصور کو فلمی سنسنی سے الگ کرکے سائنس، طبیعیات اور کائناتی امکانات کی حقیقت پسندانہ بنیادوں پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بظاہر یہ کتاب مزاح اور پاپ کلچر سے بھرپور ایک ہلکی پھلکی تصنیف محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کے کائنات میں اصل مقام کو سمجھنے کی ایک فلسفیانہ اور سائنسی کوشش ہے۔ 

مزید پڑھیں

ٹائسن کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ کیا خلائی مخلوق موجود ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں تو ہماری خود سے متعلق سوچ کیسے بدل جائے گی؟

ٹائسن کے مطابق فلموں نے خلائی تہذیبوں سے جنگ کے بارے میں ایک اجتماعی فریب پیدا کردیا ہے۔ 

War of the Worlds اور Independence Day جیسی فلمیں انسانوں 

کو ایسی قوت کے طور پر دکھاتی ہیں جو بین النجومی تہذیب کے خلاف برابر کی جنگ لڑ سکتی ہے لیکن فلکی طبیعیات اس کے بالکل برعکس بات کرتی ہے۔

ان کے مطابق جو تہذیب ستاروں کے درمیان سفر کرسکتی ہے، وہ لازماً انسانیت سے ہزاروں یا لاکھوں سال زیادہ ترقی یافتہ ہوگی۔ 

بین النجومی سفر کے لیے بے پناہ توانائی درکار ہوتی ہے، شاید زمان و مکان پر کنٹرول، اینٹی میٹر کے استعمال یا مکمل ستارے کی توانائی حاصل کرنے جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے، جیسا کہ ’کارداشیف تہذیبوں‘ کے نظریے میں بیان کیا جاتا ہے۔

6546464
ترقی یافتہ خلائی تہذیب انسانوں سے لاکھوں سال آگے ہوسکتی ہے

یہاں ٹائسن ایک سخت مثال دیتے ہیں کہ ایسی تہذیبوں کے سامنے انسان چیونٹیوں کی بستی اور ایک بڑی بلڈوزر کے درمیان فرق جیسی حیثیت رکھتے ہوں گے۔ 

فرق صرف ہتھیاروں کا نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کے انداز کا بھی ہوگا۔ 

اسی لیے وہ روایتی ہتھیاروں سے خلائی حملے کا مقابلہ کرنے کے تصور کو ’بچگانہ اور مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہیں۔

انسان خلائی
مخلوق کے سامنے
’چیونٹیوں‘ جیسی
حیثیت رکھتے
ہوں گے

اعدادِ اول روشنی کی رفتار اور کششِ ثقل جیسے اصول پوری کائنات میں یکساں ہیں۔
لہٰذا ریڈیو یا لیزر سگنلز کے ذریعے بائنری نبضیں بھیجنا شاید شعوری ذہانت کے وجود کو ثابت کرنے کا سب سے منطقی طریقہ ہو لیکن اس خیال کی گہرائی یہ ہے کہ کائناتی رابطے کے لیے انسانوں کو وقتی طور پر اپنی ثقافتی، سیاسی اور مذہبی شناختوں سے اوپر اٹھ کر ’کائنات کی خام زبان‘ کی طرف واپس آنا ہوگا۔
سائنس فکشن فلموں کا مشہور جملہ Take me to your leader ٹائسن کے ہاں ایک طنزیہ فلسفیانہ سوال بن جاتا ہے۔
اگر واقعی کوئی خلائی تہذیب زمین پر آئے تو انسانیت کی نمائندگی کون کرے گا؟
امریکی صدر؟ اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل؟ پوپ؟ یا کوئی پاپ اسٹار جیسے ٹیلر سوئفٹ؟

ٹائسن کے مطابق یہ سوال ہی ہماری طاقت اور اختیار کے تصورات کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ کائناتی نقطۂ نظر سے قومی سرحدیں، جنگیں اور قومیتیں ایک ’مدھم نیلے نقطے‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں، جیسا کہ کارل سیگن نے کہا تھا۔

4564545
ہم کائنات کی سپر پاور نہیں! امریکی سائنسدان نے انسانیت کا غرور توڑ دیا

وہ اس سے بھی آگے جاتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید انسانوں کی موجودہ تقسیم اور باہمی تنازعات ہی وہ وجہ ہوں جس کی بنا پر کوئی ترقی یافتہ تہذیب ہم سے رابطہ کرنے میں دلچسپی نہ لے۔ 

آخر ایسی تہذیب، جو وسائل کی کمی اور سیاروی جنگوں سے آگے نکل چکی ہو، وہ ایک ایسی مخلوق سے کیوں بات کرے گی جو ابھی تک ایک ہی سیارے پر پُرامن بقائے باہمی نہیں سیکھ سکی؟

کتاب کے مقدمے میں ٹائسن اعتراف کرتے ہیں کہ بچپن سے ان کا خواب تھا کہ خلائی مخلوق انہیں اغوا کرلے۔ 

یہ زمین سے فرار کی خواہش نہیں تھی بلکہ ایک ’کائناتی تجسس‘ تھا، جو نیویارک کی ہیڈن پلانیٹیریم کے دورے کے بعد ان کے اندر پیدا ہوا۔

لیکن کتاب دراصل خلائی مخلوق سے زیادہ انسانوں کے بارے میں ہے۔ 

’پہلا رابطہ‘ ایک ایسے آئینے میں بدل جاتا ہے جس میں انسان اپنی کمزوریاں، خوف، غرور، جنگیں اور خود کو کائنات کا مرکز سمجھنے کی خواہش دیکھتا ہے۔

Take Me
To Your Leader
کو فلسفیانہ
اور سائنسی
کتاب قرار دیا گیا

ٹائسن یاد دلاتے ہیں کہ سائنس عینی شاہدین کے دعوؤں پر نہیں بلکہ ثبوتوں پر قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ زمین سے باہر ذہین زندگی کے امکان کو رد نہیں کرتے بلکہ اسے ایک منطقی امکان سمجھتے ہیں کیونکہ کائنات میں کھربوں ستارے اور سیارے موجود ہیں تاہم وہ جہالت کو یقین میں بدلنے سے انکار کرتے ہیں۔
شاید سب سے بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم ستاروں کے درمیان ’غیروں‘ کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ اس امکان پر کم غور کرتے ہیں کہ شاید ہم زمین پر بھی اکیلے نہیں۔
انسانی تاریخ میں جنات، بھوت، پوشیدہ مخلوقات اور ایسی غیر مرئی ہستیوں پر یقین پایا جاتا رہا ہے جو ’ہمارے درمیان‘ رہتی ہیں۔
اگرچہ جدید سائنس ان تصورات کو نفسیاتی یا ثقافتی انداز میں بیان کرتی ہے لیکن انسانی شعور میں ان کا مسلسل موجود رہنا ایک دلچسپ سوال پیدا کرتا ہے: اگر یہ مخلوقات واقعی موجود ہیں تو ہم انہیں محسوس کیوں نہیں کرتے؟
اور وہ ہماری زندگیوں پر اثر انداز کیوں نہیں ہوتیں؟
شاید، جیسا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں، وہ پہلے ہی ہمارے ساتھ رہ رہی ہوں اور ہم سے ٹکراؤ سے بچنے کا طریقہ جانتی ہوں۔

آخر میں، چاہے یہ ’غیر زمینی مخلوق‘ کہکشاؤں کی گہرائیوں سے آئے یا ہمارے قدیم شعور کے کسی پوشیدہ گوشے میں موجود ہو، ٹائسن کا پیغام واضح ہے:
’دوسری تہذیبوں کی تلاش سے پہلے انسانوں کو خود ایک تہذیب بننا سیکھنا ہوگا‘۔

بشکریہ: الجزیرہ نیٹ ورک